Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موسم سرما میں بچوں کی حفاظت

ارم طاہر بدھ 19 دسمبر 2018
موسم سرما میں بچوں کی حفاظت

دراصل اپنی ناتواں قوت مدافعت کے باعث نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کرپاتے اور ماحول اور آب وہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناسمجھی کے باعث انہیں احتیاطی تدابیر کا بھی زیادہ شعور نہیں ہوتا اور وہ نتائج سے بے پروا ہوکر اپنے کاموں میں مگن رہتے ہیں ،لہٰذا سردیوں میں ان کا متاثر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔ ایسے میں اکثر مائیں موسم کو الزام دیتی نظر آتی ہیں جوکہ نہایت عجیب امر ہے ، کیوںکہ بچے تو ٹھہرے بچے ، وہ کیوں کر موسم اور اس کے لیے احتیاطوں کو سمجھ سکتے ہیں ؟ یہ کام تو ہے ہی سراسر ان کی مائوں کا کہ انہیں احتیاط کرائیں اگر سرد موسم کے شروع ہوتے ہی بچوں کو مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں ۔ انہیں پانی میں کھیلنے سے دور رکھا جائے۔ ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھونے اور نہانے سے روکا جائے ۔ چاکلیٹ ،غیر معیاری ٹافیوں اور مٹھائیوں سے دور رکھاجائے تو بچے سینے کی جکڑن ، سانس کی تکلیف ،نزلے ،گلے کی خرابی یا گلے کے غدود میں سوجن کی شکایت سے محفوظ رہ سکتے ہیں سردی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کے پائوں ،سینے اور خاص طورپر سر کو گرم رہنا چاہیے ۔ شیر خوار اور کم از کم پانچ برس تک کے بچوں کے سر اور سینے کو ڈھانپ کر رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ برس سے بڑے بچوں کو گرم کپڑے نہ پہنائے جائیں ،اوران کو سرد ہوا کے جھونکو ں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے بلکہ احتیاط سب کے لیے ضروری ہے ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی چالیس فیصد حرارت سر کے راستے داخل ہوتی ہے اس لیے محتاط رہیں ۔ موسم کی سختی کے حساب سے بچوں کے سر پر اونی ٹوپی اور پائوں میں موزے پہنانے کے ساتھ ساتھ سینہ بند یا کوئی ہاف سوئٹر کپڑوں کے اندر پہنائیں ۔ ہائی نیک ، سوئٹر پہننا بھی مفید رہے گا ۔ گرم کپڑے پہناتے وقت موسم کی شدت کا درست انداز ہ کریں اور اس ہی حساب سے کپڑے پہنائیں ۔ ایسا نہ ہوکہ موسم کی شدت سے زیادہ بھاری کپڑے پہنا دیے جائیں ، جس سے بچہ گھبرا جائے ۔
پانی کی بے احتیاطی سے عام طورپر بچوں کی قوت مدافعت کم زور پڑ جاتی ہے اور وہ نزلہ زکام اور نمونیہ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ نمونیہ کی صورت میں ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے پسلیاںچلنے لگتی ہیں ۔

(336 بار دیکھا گیا)

تبصرے