Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

میکے جانا ....موت کا بہانہ

سید حسن رضاشاہ جعفری جمعه 14 دسمبر 2018
میکے جانا ....موت کا بہانہ

16 نومبر جمعہ کا دن تھا‘ کراچی کے علاقے سچل تھانے کی حدود سے 35 سالہ خدیجہ طاہر نامی خاتون کی تشدد شدہ نعش ملی ‘ پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا‘ جہاں پولیس کارروائی کے بعد واقعہ روڈ ایکسیڈنٹ کا ہونا قرار پایا‘ جس کے بعد پولیس نے واقعہ کا مقدمہ 705/18 بجرم دفعہ 320 درج کرلیا‘ واقعہ کے مطابق متوفیہ خدیجہ طاہر کراچی کے علاقے جوہر آباد تھانے کی حدود میں اپنے شوہر طاہر اور 3 بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھی‘ متوفیہ کی 7 سال پہلے اپنے سابقہ شوہر سے طلاق ہوگئی تھی‘ جبکہ دوسری شادی 6 ماہ قبل طاہر کے ساتھ ہوئی تھی‘ طاہر کے3 بچے تھے ‘ جس کے ہمراہ متوفیہ عائشہ منزل میں رہائش پذیرتھی‘ 16 نومبر کو صبح گیارہ بجے خدیجہ اپنے گھر والوں ماں باپ سے ملنے کی غرض سے اپنے گھر واقعہ عائشہ منزل سے کنیز فاطمہ گلزار ہجری کی طرف روانہ ہوئی اور لاپتہ ہوگئی‘ 3 سے 4 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی خدیجہ اپنے ماں باپ کے گھر میں نہیں پہنچی اور لاپتہ ہوگئی‘ شوہر نے جب فون کیاتو فون بند جارہا تھا‘ جس پر اسے بڑی تشویش ہوئی شروع میں تو گھر والوں نے سوچا کہ شاید ممکن ہے کہ وہ اپنی کسی سہیلی یا جاننے والے کے پاس چلی گئی ہوا ور 2 چار گھنٹے بعد آجائے ‘ لیکن ایسا نہ ہوا‘ جس پر گھر والے پریشان ہوگئے اور انہوںنے اس کی تلاش شروع کردی‘ متوفیہ کے شوہر محمد طاہر نے تھانہ جوہر آباد میں ایک درخواست بھی دے دی کہ تلاش میں پولیس ہماری مدد کرے‘ لیکن گھر والوں نے جگہ جگہ تلاش کیا‘ لیکن کوئی پتہ نہ چلا‘ دوسری طرف تھانہ سچل کی حدود غازی گوٹھ سے متوفیہ کی نعش 16 نومبر کو تھانہ سچل کی پولیس کو ملی‘ کسی شخص نے پولیس کو بذریعہ فون اطلاع دی ‘ جس پر پولیس فوری طورپر جائے وقوعہ پر پہنچی اور نعش کو تحویل میں لے کرپولیس کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا‘ جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متوفیہ کی موت کی وجہ روڈ ایکسیڈنٹ ثابت ہوگئی‘ جبکہ متوفیہ کے گھر والے جب مختلف جگہوں پر ڈھونڈتے ہوئے جناح اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے پاس 2 ڈیتھ باڈی آئی ہیں‘روڈ ایکسیڈنٹ کی انہیں دیکھ لیں‘ گھر والوں نے جب دیکھا تو ایک نعش خدیجہ طاہر کی تھی‘ جس کو سچل پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد گھروالوں کے حوالے کردیا‘ جسے گھر والوں نے غسل ‘ کفن کے بعد پاور ہائوس قبرستان میں سپر دخاک کردیا۔ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا‘ بلکہ متوفیہ صاحبہ طاہر کی موت پر اسرارروڈ ایکسیڈنٹ نے کئی سوال کھڑے کردیئے‘اس پراسرار روڈ ایکسیڈنٹ کے حوالے سے متوفیہ کے بھائی کا مران نے قومی اخبار کو بتایا کہ ہمیں تشویش ہے کہ بہن کی نعش غازی گوٹھ سے کیسے ملی‘ جبکہ عائشہ منزل سے ہماراگھر قریب ہے ‘ جبکہ غازی گوٹھ کا راستہ تو یہاں سے بہت آگے ہے ‘ جس کی طرف جانے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی‘ اگر ان کی موت روڈ ایکسیڈنٹ میں ہی ہوئی ہے تو روڈ ایکسیڈنٹ کا واقعہ اسی دن ہی رپورٹ کیوںنہ ہوا‘جس جگہ پر ایکسیڈنٹ ہوا اگر وہاں سے کوئی CCTV ویڈیو مل جائے تو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ آیا واقعہ روڈ ایکسیڈنٹ ہے یا کچھ اور ہے ‘ اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ واقعے کو باریک بینی سے دیکھا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیاجائے‘ ہم اس حوالے سے تھانہ سچل کے SHO شہریار سے بھی رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کا صرف پوسٹ مارٹم رپورٹ پر انحصار کرنا پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے‘ تھانہ سچل کے انویسٹی گیشن کے پولیس آفیسر احمد علی شاہ نے واقع کو روڈ ایکسیڈنٹ قرار دیتے ہوئے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں روڈ ایکسیڈنٹ واضح ہوگیا ہے ‘ ایک سوال کے جواب میں احمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ متوفیہ کی نعش کے پاس سے اسکا موبائل فون نہیں ملا ہے ‘ تاہم پولیس ہرزاویے سے واقعہ کی تفتیش کررہی ہے۔

(491 بار دیکھا گیا)

تبصرے