Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

روپے کی قدر میں کمی مجبوری تھی ، مہنگائی مزید بڑھےگی، گورنراسٹیٹ بینک

قومی نیوز جمعه 14 دسمبر 2018
روپے کی قدر میں کمی  مجبوری تھی ، مہنگائی مزید بڑھےگی، گورنراسٹیٹ بینک

اسلام آباد…گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ، روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر وزیر خزانہ اسد عمرسے رابطے میں تھا۔ وزیر خزانہ اور وزیراعظم کے مابین کیا بات ہوئی اس کا کوئی علم نہیں۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔گورنرا سٹیٹ بینک نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی خوشی سے نہیں مجبوری میں کی، ایک عرصہ تک ڈالر کو باندھ کر رکھا مارکیٹ فورسز کے دباؤ پر ایک سال میں 6 مرتبہ روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑی ،زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور 19ارب ڈالر تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ چکا تھا ، وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے کمیٹی کو بتایاکہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے بیرونی قرضوں کے حجم میں کوئی فرق نہیں پڑا جس پر ارکان کمیٹی نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا ، گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ملک میں نہ تو براہ راست سرمایہ کاری آرہی ہے نہ ہی تیل ہے ، مالی وسائل نہیں ہیں 36ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ کیسے پورا کرتے ،گورنرا سٹیٹ بینک نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس وقت افراط زر کا دباؤبڑھ رہا ہے اور آئندہ دنوں میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ۔دریں اثناء پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی سمت درست نہیں، بغیر تیاری کے حکومت میں آجانے والے افراد نے ڈالر بڑھا کر اور روپیہ کی قدر میں کمی کر کے ملک پر مزیدساڑھے 3 ہزار ارب کا قرضہ چڑھا دیا ہے، چندے و خیرات سے ملک نہیں چلتے، دل کی شریان بند، کمرمیں درد، ملکی حالات تکلیف بڑھادیتے ہیں۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ معیشت کو سنبھالنے کے لئے حکومت کے اقدامات غیر ذمہ دارانہ ہیں، ہمارے دور میں معیشت سنبھل چکی تھی اور ملک ترقی کر رہا تھا،ا سٹاک مارکیٹ دنیا کی 5 ویں اور سائوتھ ایشیا میں پہلے نمبر پر تھی۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بعض حکومتی وزیر یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قیمت کم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،روپیہ کی قدر میں کمی معیشت کے حوالے سے ’’ہر برائی کی جڑ‘‘ ہے۔

(647 بار دیکھا گیا)

تبصرے