Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 19 جنوری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بلاول کو سامنے لا نے کی پا لیسی تبدیل‘ زرداری کو فری ہینڈ مل گیا

قومی نیوز جمعرات 13 دسمبر 2018
بلاول کو سامنے لا نے کی پا لیسی تبدیل‘ زرداری کو فری ہینڈ مل گیا

کراچی…پیپلزپارٹی نے مائنس ون فارمولا قبول نہ کرنے اورپارٹی قیادت پرحالیہ دباؤکامقابلہ کرنے کافیصلہ کرلیاہے۔پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کونوٹس کے اجراء کے بعد پارٹی پالیسی میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کیاگیا۔ سابق صدر آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظردفاع کے لئے  2قانونی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے بھی منی لانڈرنگ میں ملوث 19 اہم شخصیات کے خلاف ثبوت حاصل کرناشروع کردیئے۔ پیپلزپارٹی کے حامی افسران نے مشرف دورمیں امریکہ اور کینیڈا میں سرمائے کی منتقلی سے متعلق اہم شواہد پیپلزپارٹی کوفراہم کرناشروع کردیئے ہیں۔ معتمدترین ذرائع کے مطابق مشکل ترین حالات میں پیپلزپارٹی کے تھینک ٹینک کی جانب سے آصف زرداری کوحالات کی مناسبت سے پس منظرمیں چلے جانے اوربلاول بھٹوکوسیاسی محاذ کی فرنٹ لائن پرلانے کی پارٹی پالیسی پر پھر نظرثانی کی گئی ہے اورسابق صدرکوپارٹی امورمیں فری ہینڈ دے دیاگیا۔نیب کیسز سے متعلق سابق صدرکے قانونی دفاع کیلئے سابق وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک اور ایف آئی اے کے تحت میگامنی لانڈرنگ کیسزمیں دفاع کیلئے بیرسٹر اعتزاز احسن، سینیٹرلطیف کھوسہ کی سربراہی میں قانونی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جوقانونی ماہرین کی مشاورت سے لائحہ عمل تیارکریں گی۔جبکہ پیپلز پارٹی کے اہم اجلاس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ پارٹی قائدین بلول بھٹو اور آصف علی زرداری نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کا کراچی میں اہم اجلاس ہوا جس میں سید خورشید شاہ‘ نیئر حسین بخاری‘ قائم علی شاہ‘ قمرالزماں کائرہ‘ مخدوم احمد محمود اور نثار کھوڑو سمیت پارٹی کے اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی اپنے نظریے اور جدوجہد پر مصلحت کا شکار نہیں ہوئی‘ ہم آمروں اور ان کے حواریوں کے مظالم کا سامنا کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کٹھ پتلیوں کو اقتدار میں لانے کے لئے شرمناک ڈرائی کلیننگ مہم چلائی گئی‘ کٹھ پتلی سرکار عوام کو نوکریاں دینے کے بجائے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کررہی ہے۔

(529 بار دیکھا گیا)

تبصرے