Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

’’ٹیکس دے کر گناہ معاف کرائیے‘‘

عمران اطہر منگل 11 دسمبر 2018
’’ٹیکس دے کر گناہ معاف کرائیے‘‘

تمباکو نوشی اور مشروبات کا استعمال کرنے والے اب ’’گناہ گاروں‘‘ کی فہرست میں شامل ہونے جارہے ہیں کیونکہ سگریٹ کے پیکٹ پر دس روپے گناہ ٹیکس اور مشروبات کی ایک لیٹر بوتل پر دو روپے کا گناہ ٹیکس لگانے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور اس سلسلے میں سمری بھی ایف بی آر کو ارسال کردی گئی ہے اگرچہ اس بارے میں اطلاع یہ بھی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس سمری کی مخالفت کی ہے تاہم لگتا یہی ہے کہ حکومت ملک کی لگ بھگ چالیس فیصد آبادی کو گناہ گار قرار دلوانے پر تلی ہے جبکہ گناہ ٹیکس کی وصولی کے ذریعے ’’گناہ گاروں‘‘ کے ٹیکس معاف کرنے کی ذمے داری بھی سنبھالی جارہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگرچہ سخت قوانین کے باوجود ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے جو گناہ کے زمرے میں آتے ہیں اور معاشرتی بے راہ روی کے باعث طبعاً شریف النفس لوگوں کوپہلے ’گناہ سے بچنے کے لیے پُھونک پُھونک کر قدم رکھنا پڑتا تھا‘، مگر اب تو پُھونکنا ہی گناہ بن گیا ہے ‘کیونکہ کسی بھی اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہونے والے افراد بھی اب محض تمباکو نوشی اور مشروبات کے استعمال پر گناہ گاروں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 32 فیصد مرد اورچھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں اور اب اس لحاظ سے لگ بھگ 38فیصد تمباکو نوش مردو خواتین رجسٹرڈ گناہ گار ہوجائیں گے جبکہ مشروبات استعمال کرنے والوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔حکومت کی جانب سے سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس پر اضافی ٹیکس لگاکر اسے ‘سِن یعنی گناہ ٹیکس’ کا نام دینے کے معاملے پر عوامی حلقوں سمیت خود تحریک انصاف کی حکومت کے کرتا دھرتاؤں میں بھی لے دے ہورہی ہے اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر تو اس کا ردعمل لازمی تھا ہی، لیکن مقامی کیفیز اور بازاروں میں بھی لگتا ہے کہ یہ معاملہ خاصا گرم ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ ‘سگریٹ نوشی گناہ ہی ہے تو اس پر مکمل پابندی لگا دیں، یہ کیا کہ گناہ ہے مگر ٹیکس دے کر کر لیں یہ گناہ’یا اس کو معاف کرالیں۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں نے اگرچہ سگریٹ کو ‘تھوڑا سا گناہ‘ مان بھی لیا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنکس پی کر بھی گناہگارکیسے ہوگئے؟ یہ بات تو ہمارے لیے قطعی سمجھ سے بالاتر ہے !
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ‘سِن ٹیکس’ کی یہ اصطلاح پاکستان تحریک انصاف یا موجودہ حکومت نے نہیں بنائی بلکہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصطلاح ہے جو شراب سمیت تمام ممنوعہ اور مضرِ صحت مصنوعات، پورنوگرافی اور سٹے بازی کے لیے استعمال کی جاتی ہے اوراس قسم کے ٹیکسز امریکا اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہیں، یہاں تک کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے فلپائن میں 2012 میں سگریٹ پر نافذ کیے گئے ‘سِن ٹیکس’ کو انتہائی کامیاب قرار دیا گیا تھا کیونکہ اِس ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے غریب شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملی۔ جبکہ عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں بھی مختلف مصنوعات پر سِن ٹیکس نافذ ہے ۔
پاکستان کے وزیرِ صحت کی جانب سے تمباکو نوشی اور مشروبات پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ عائد کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ وضاحت پیش کی گئی تھی کہ انڈیا میں بھی پان اور گٹکے پر ‘گناہ ٹیکس’ لگایا جاتا ہے تو اگر پاکستان میں تمباکو نوشی یا مشروبات پر یہی ٹیکس لگا کر صحت عامہ کے لیے کوئی بہتری کاکام کیا جاسکتا ہے تو کیا غلط ہے ۔
چلیں ان کی اس توجییہ کو مان لیتے ہیں کہ شوق کی ان چیزوں پر ٹیکس عائد کیا جاتا ضروری ہے یا دنیا کے کئی ممالک میں اسی نوعیت کا ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں یہ امر بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ان قسم کے ٹیکس لگانے سے قبل دنیا بھر میں اس ٹیکس کے نام پر بحث بھی کی جاتی ہے ، جیسا کہ بہت سے لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ‘کیا سگریٹ نوشی اور کولڈ ڈرنک پینا ہی گناہ ہے ؟ گناہ تو بہت سے ہیں اور بہت بڑے ہیں، ان کو بھی ڈیکلیئر کر دیں’۔تمباکو نوشی کرنے والے بعض صاحبان اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پریہ سوال کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ : ’اگر سگریٹ نوشی کرنے والوں پر ’سِن ٹیکس‘ لگایا جا رہا ہے تو کیا ہم جیسے تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو کوئی ’ثواب الاؤنس‘ ملے گا۔‘ دوسری طرف ملک کے کئی شہریوں کا یہ خیال بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جہاں مذہب کا رنگ لگانے اور گناہ اور ثواب کی لکیر کھینچ دینے کے بعد ہر معاملہ جس قدر تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کی جانب جاتا ہے ، ایسے میں ٹیکسوں کو اس قسم کے نام دے دینا سراسر ‘حماقت’ ہے اور یہ کہنا بھی قطعی بے جا نہ ہوگا کہ ‘سگریٹ سے زیادہ ریاست کی پالیسیاں لوگوں کو نقصان پہنچا دیتی ہیں’۔
تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف نہ پہنچنے کے باوجود ابھی تک اس کی مخالفت میں شدت نہیں آئی ہے اور لوگ بہتر مستقبل کی امید میں مہنگائی اور نت نئے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کررہے ہیں اور شاید اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک ان میں تھوڑی بہت بھی سکت باقی ہے اس لیے حکومت کو صرف اتنا سا مشورہ ہے کہ معاشی بہتری کے لیے تمباکو اور سافٹ ڈرنکس پر ٹیکس ضرور لگائیں، ’لیکن خدارا گناہ اور ثواب کا نام تو نہ دیں‘۔

(621 بار دیکھا گیا)

تبصرے