Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لیاری سے لی مارکیٹ تک

مختار احمد اتوار 09 دسمبر 2018
لیاری سے لی مارکیٹ تک

لیاری کے علاقے کو اگر منی بلوچستان کہا جا ئے تو یہ قطعی طور پر بے جا نہ ہو گا کیو نکہ یہاں زیادہ تر بلوچ قوم کے لوگ آباد ہیں یہ علاقہ شہر کا وہ قدیم ترین علاقہ ہے جو کہ فصیل شہر مسمار کئے جا نے کے بعد سب سے پہلے آباد کیا گیا کیو نکہ اس علاقے سے لیاری ندی گزرتی تھی اور یہاں کثرت کے ساتھ پیلوجس کے معنی ملاپ کے ہو تے ہیں کے درخت پا ئے جا تے تھے لہذا اس علاقے کو لے یاری کا نام دیا جا نے لگا اور یہاں کے بسنے والوں نے علاقے کے نام لی لاج رکھتے ہو ئے شہر کراچی میں بسنے والوں پر وہ خلوص ومحبت نچھاور کی جسے کسی طورپرفراموش نہیں کیا جا سکتا لیاری میں لاتعداد علاقے شامل ہیں جنہیں علیحدہ علیحدہ ناموں سے جا نا جا تا ہے جیسے کے ٹھارو لین کا علاقہ جسے 1836 میں بلوچستان کے ضلع لسبیلہ سے آنے والے لوگوں نے آباد کیا اور بر طانوی حکو مت نے یہاں کے محنتی جفا کش لوگوں کو دیکھتے ہو ئے کراچی میونسپلٹی کے سیکریٹری مسٹر اسٹریچن کے دستخطوں سے مالکا نہ حقوق دے دئے اسی طرح ریکسر لا ئن کا علاقہ 200 سال قبل مکران کے علاقے مند سے آنے والے بلوچوں نے آباد کیا اس علاقے کوبھی ایک قدیم تاریخی حیثیت حاصل ہے کیو نکہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں مدرسہ احرار الاسلام میں تحریک انصاف کے سر گرم رہنما مو لانامحمدعلی جوہر اور شوکت علی جوہر کے قیام کے ٹھوس شواہد موجود ہیں لیاری کے ہی علاقے میں بہار کا لو نی کا وہ علاقہ موجود ہے جہاں قیام پاکستان سے قبل بھارت کے صوبہ بہار میں ہو نے والے ہندو مسلمان فساد کے دوران جان بچا کر آنے والوں کو پناہ ملی اور اہل لیاری نے انہیں نا صرف گلے سے لگا یا بلکہ ہر ممکن امداد کی اور اسی بستی میں آگرہ تاج کا لو نیکا علاقہ بھی شامل ہے جہاں ہندوستان میں آگرہ یوپی کے علاقے میں ہو نے والے فسادات کے بعد آنے والوں کو یہاں کے واسیوں نے اپنی آغوش میں سمیٹا اور اس علاقے کے نام کو انہیں کے نام سے منسوب کر دیااس علاقے کی ایک اور تاریخی حیثیت یہ ہے

 

کہ جب با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنی بیماری کے آخری ایام میں کراچی میں ماری پور ایئر پورٹ پر اترے اور انہیں ایک ایمبولنس کے ذریعے جب شہر میں لا یا جا رہا تھا تو ان کی ایمبولنس اسی مقام پر خراب ہو ئی اور انہوں نے زندگی کی آخری سانسیں لیں لیاری میں شامل لی مارکیٹ کے علاقے کواگر تجارتی سر گر میوں کا سب سے پہلامرکز قرار دیا جا ئے تو یہ بھی غلط نہ ہو گا کیونکہ اس علاقے کے آباد ہو نے کے ساتھ ہی یہاں تجارتی سر گر میاں اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ یہاں تمام متمول لوگوں نے رہائش اختیار کر رکھی تھی اور یہاں تک کے با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے لئے 1943 میں ایک جلوس نکا لا تو لی مارکیٹ کے کتھری جماعت کے خزانچی محمد قاسم اور ہاشم ہارون نے جلوس کو روک کر انہیں ایک ایسی مخملی تھیلی ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں جس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے پاکستان کا نقشہ کڑھا ہوا تھا جس پر قائد اعظم نے اس علاقے کے لوگوں کے خلوص ،محبت اورپاکستان بنا نے کی خواہش بلکہ جنون پر انہیں زبر دست لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا تھا سونے چاندی کے تاروں سے مزین یہ مخملی تھیلی آج بھی قائد اعظم محمد علی جناح کی جا ئے پیدائش وزیر مینشن کے شوکیس میں یادگار کے طور پر حفوظ ہے کیونکہ یہ علاقہ ماضی میں ہی ایک تجارتی علاقہ بن چکا تھا لہذا انگریزوں نے یہاں شہر کی سب سے عالیشان مارکیٹ قائم کی اور کیونکہ یہ مارکیٹ میونسپلٹی نے تعمیر کرائی اور اسے اس وقت کے میونسپل کمشنر مسٹر لی کے نام سے منسوب کر دیا گیا اور یہ مارکیٹ جلد ہی ترقی کر تے ہو ئے شہر کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ بن گئی جہاں سے نا صرف شہر کراچی کے تمام تر علاقوں میں سبزیاں ،گوشت ،زرعی اجناس ،کپڑے ،کھجوریں ،فریش مچھلی ،ڈرائی مچھلی ،پھل ،ڈرائی فروٹ،مرغی ،چپلیں اور جوتوں کی سپلا ئی ہو تی تھی بلکہ ایشیا میں بھی اسی مارکیٹ سے اشیا ئے خرد و نوش سے لے کر کپڑے اور جوتوں کی ایکسپورٹ کا کام کیا جا تا تھا

 

جس کے سبب 1930میں قائم ہو نے والی اس مارکیٹ نے دور دور تک شہرت اختیار کر لی اور میونسپلٹی نے ہی اس مارکیٹ میں کاروبار کی دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو لگ بھگ 1800دکانیں ،اسٹالز بنا کر دئے اور 1947میں قیام پاکستان کے بعد کاروبار کر نے والے دکاندار اور اسٹالز ہولڈرز 5 رو پے کرا یے کی مد میں ادا کر نے لگے جو کہ اس وقت لگ بھگ 6000تک پہنچ چکے ہیں مگر اچا نک بلدیہ عظمی کراچی نے لی مارکیٹ کی قدیم ٹائوراور مارکیٹ کی تاریخی حیثیت کو بحال کر نے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے ایک حکم نا مے کا سہارا لے کر اچا نک سے 961دکا نوں کو اس بات کے نوٹسز جاری کر دئے ہیں کہ وہ فوری طور پر نالوں اور پارکوں پر بنی ہو ئی دکانیں اور اسٹالز خا لی کر دیں ورنہ انہیں مسمار کر دیا جا ئے گا جس کے سبب ایمپریس مارکیٹ جہاں 9مارکیٹوں کی 1700دکا نیں مسمار ہو نے کے بعد لاکھوں لوگ بے روزگاری کا عذاب جھیل رہے ہیں کے بعد اس قدیم مارکیٹ جو کہ عرصہ دراز سے دیکھ بھال نہ ہو نے کے سبب زبوں حا لی کی تصویر بنا ہوا ہے کے مخدوش ٹائور کے کسی بھی لمحے سبزی مارکیٹ پر گرنے کا اندیشہ ہے جس سے سینکڑوں جانیں جانے کے خدشات موجود ہیں اس سلسلے میں آل تا جر اتحاد لی مارکیٹ تجاوزات کے نام پرمارکیٹ کو مسمار کئے جا نے کے حوالے سے عدالت سے رجوع کر لیا ہے اور اس اتحاد کے سربراہ شعیب بلوچ ،عبداللہ مینگل ودیگر کا کہنا یہ ہے کہ وہ کسی طور پر اس مارکیٹ کو مسمار نہیں ہو نے دیں گے بلکہ اس کیخلاف بھر پور مزاحمت کریں گے ۔

(610 بار دیکھا گیا)

تبصرے