Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بچہ جان سے گیا

سید بلال علی شاہ جمعه 23 نومبر 2018
بچہ جان سے گیا

شہر کراچی میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ کورنگی کے ایک گھرانے پر کہر بن کر ٹوٹا کے گھر کی ننھی شمع کو بجھا گیا اتوار کے روز بے رحم پتنگ کی ظالم ڈور نے ننھی کلی کو مرجھا دیا‘اتوار کا روز تھا کورنگی 3 نمبر کا رہائشی عارف معمول کے مطابق اپنے گھر سے نکلا تو اس کا 3 سالہ بیٹا علیان بھی اس کے ہمراہ موٹرسائیکل پر رائونڈ لینے اور چیز لینے کے لئے اپنے والد کے ہمراہ آگیا اکثر علیان اپنے والد عارف کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جایا کرتا تھا لیکن اس بار علیان واپس آنے کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کو جانے کے لئے گھر سے اپنے والد کے ہمراہ نکلا تھا جس بات سے اس کے والد سمیت دیگر اہل خانہ بلکل بے خبر تھے ابھی عارف اپنے بیٹے 3 سالہ علیان کے ہمراہ گھر سے موٹرسائیکل پر کچھ ہی دور آیا تھا اور عارف اپنے ننھے بیٹے سے باتیں کرتا ہی جا رہا تھا کہ اچانک ان پر قیامت ٹوٹ پڑی اور ان کے اوپر کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور گر گئی جس کا احساس عارف کو تو فوری طور پر نہیں ہوا لیکن اس کا بیٹا علیان اس کی ذد میں آچکا تھا ‘جس کا احساس عارف کو چند لمحوں بعد ہوا ‘لیکن ان چند لمحوں میں ہی اس ظالم پتنگ کی بے رحم ڈور نے اپنے والد عارف کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار علیان کی گردن کو اپنا نشانہ بنالیا اور گلے میں لپٹ گئی عارف نے موٹرسائیکل فوری طور پر روکی اور اپنے ننھے بیٹے علیان کے گلے سے فوری طور پر پتنگ کی ڈور نکالی‘پتنگ کی ڈور نکالنے کے بعد علیان کے گلے سے شدید خون بہنے لگا ابتدا میں تو علیان چلا کر رویا پھر اس کی آواز بھی بند ہو گئی عارف بھی اپنے ننھے بیٹے کو خون میں لت پت دیکھ کر حواس کھو بیٹھا‘لیکن قریب ہی واقعہ لوگوں نے یہ خوفناک مناظر دیکھا تو ان کے پاس دوڑے چلے آئے اور فوری طور پر شدید زخمی ہونے والے علیان کو طبی امداد کے لئے اس کے والد کے ہمراہ اسپتال پہنچایا‘ لیکن ننھا علیان تو اسپتال جانے سے قبل ہی زندگی کی بازی ہار کر موت کو گلے لگا چکا تھا جس سے اس کا باپ عارف لاعلم تھا‘ اسپتال لانے کے بعد جب ڈاکٹرز نے علیان کو چیک کیا تو اس کے جسم میں سانس نہیں تھی جس پر ڈاکٹر نے انتہائی دکھ کے ساتھ عارف کو یہ کہا کہ اب اس کا ننھا بیٹا اس دنیا میںنہیں ۔ عارف اہنے بیٹے کے ساتھ گھر سے موٹرسائیکل پر چکر لینے اور چیز لینے کے لئے نکلا تھا وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گیا،،اپنے ننھے بیٹے کی موت کی خبر سنتے ہی اس کے باپ کے پیروں سے زمین نکل گئی اور وہ سکتے میں آگیا،ننھے بیٹے کی موت کی اطلاع پر گھر میں بھی کہرام مچ گیا، موت کی تصدیق کے بعد اہل خانہ بغیر کسی کارروائی کے علیان کی لاش کو اپنے ہمراہ لے گئے ‘گھر پر ننھے علیان کی نعش پہنچتے ہی قیام سا منظر طاری ہو گیا اور علاقے میں خوف کی فضاء چھا گئی‘متوفی علیان کورنگی ساڑھے تین نمبر غوث پاک روڈ کا رہائشی تھا‘بچے کے والد عارف نے اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا کے جی ون کا طالب علم تھا اور گھر میں سب کا لاڈلہ تھا۔ جس کے موت سے پورے گھر کو صدمہ پہنچا اور گھر کی مسکراہٹیں بھی چلی گئی‘انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ پتنگ کی ڈور پر نہ صرف پابندی لگائی جائے‘ بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سزائے موت دینی چاہئے ‘ تاکہ علیان کی جگہ کل کوئی اور بچا اس کا شکار ہونہ ہوجائے‘جبکہ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے بچے کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے‘ننھے علیان کی نماز جناز علاقے میں قائم مسجد میں ادا کی گئی ۔جس میں علاقہ مکینوں اور عزیز و اقارب رشتہ داروں کی بڑی تعداد نے شرکت اور بعد میں ننھے علیان کے جسد خاکی کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔۔

(291 بار دیکھا گیا)

تبصرے