Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کھانا… موت کا بہانہ

عارف اقبال جمعه 23 نومبر 2018
کھانا… موت کا بہانہ

کراچی میں ایک خاندان کے 2 بچے زہر خورانی کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ماں کی حالت بھی غیر ہے۔ گزشتہ دنوں یہ واقعہ کلفٹن کے علاقے میں پیش آیا‘ جہاں ڈیفنس کریک وسٹا کی رہائشی خاتون عائشہ اپنے 2 بیٹوں 4 سالہ محمد اور ڈیڑھ سالہ احمد کو تفریح کی غرض سے کلفٹن میں واقع پارک لائی اور رات ہونے پر ایک ریسٹورنٹ سے بچوں کے ساتھ کھانا کھلایا اور پھر واپس اپنے گھر چلی گئی لیکن صبح ہونے تک بچے اور خود عائشہ کی طبیعت خراب ہوئی اور حالت اتنی بگڑ گئی کہ انہیں اس کے گھر والے گھر سے قریب اسپتال لے گئے جہاں دوران سفر ڈیڑھ سالہ احمد اور پھر دوران علاج 4 سالہ محمد بھی دم توڑ گیا جبکہ بچوں کی والدہ عائشہ کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا جہاں عائشہ کی طبیعت کی بحالی کے لئے علاج جاری ہے۔ ریسٹورنٹ سے کھانا کھانے کے بعد طبیعت بگڑنے پر 2 بچوں کی ہلاکت اور متوفین کی والدہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کی وجہ سے عام تاثر یہ ہی ہے کہ شاید جس ریسٹورنٹ سے ان لوگوں نے کھانا کھایا وہ کھانا حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں بنایا گیا تھا اور اس میں کچھ ایسی چیزیں شامل تھیں جس نے زہر کا کام کیا۔ یہ افسوسناک سانحہ گزرگیا‘ بچوں کو اب اپنی ماں کے پاس لانا ناممکن ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ گٹر‘ نالوں اور کچروں کے ڈھیر کے ساتھ کھانے پینے کے اسٹالز‘ ریسٹورنٹ اور دیگر فوڈ ہائوسز کھلے ہیں جہاں پلیٹوں اور پیالوں میں لال لیگ ‘ چوہے اور کئی قسم کے مضر صحت کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں‘ اس کے علاوہ شہر بھر میں ٹماٹو کیچپ اور مایونیز کے نام پر مضر صحت محلول بیچا جارہا ہے‘ گٹکے وغیرہ الگ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سال اور 4 سال کے بچے کیا کھاگئے ہوں گے‘ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اہم سوال یہ بھی ہے کہ اس صوبے کی فوڈ اتھارٹی کیا کررہی ہے۔ اس سانحہ نے تو بڑے بڑے دعوئوں کے پول کھو ل دیئے ہیں۔ گزشتہ دنوں کلفٹن میں واقع ایک نجی اسپتال میںڈ یڑھ سالہ احمد کی نعش اور اس کے بڑے بھائی 4 سالہ محمد کو بے ہوشی کی حالت میں اور ان کی والدہ عائشہ کو تشویشناک حالت میں لایا گیاجہاں محمد نے دوران علاج دم توڑ دیا۔ واقعہ کی اطلاع پرپولیس نے موقع پر پہنچ کر معلومات حاصل کیں‘ متاثرہ خاندان کے اسپتال میں موجود رشتہ داروں نے پولیس کو بتایا کہ دونوں بچوں اور ان کی والدہ نے ڈیفنس فیز فور میں واقع ایموزمنٹ پارک سے ٹافیاں خریدیں اور کلفٹن پلے لینڈ میں ٹافیاں کھائیں جبکہ متاثرہ خاندان نے زمزمہ پر واقع ایک ریسٹورنٹ پر کھانا کھایا اور اتوار کی صبح 5 بجے بچوں اور ان کی والدہ کو اُلٹیاں شروع ہوگئیں‘ بعدازاں انہیں کلفٹن میں واقع سائوتھ سٹی اسپتال لایا جارہا تھا کہ ایک بچے نے راستے میں اور دوسرے نے دوران علاج دم توڑ دیا۔ اس ضمن میں ایس ایس پی سائوتھ پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ جاں بحق بچوں اور ان کی والدہ کو حالت غیر ہونے کے بعد دوپہر 3 بجے اسپتال لایا گیا۔ پولیس نے ریسٹورنٹ اور ایموزمنٹ پارک میں واقع دونوں پوائنٹس کو سیل کردیا اور سندھ فوڈ اتھارٹی حکام کو طلب کرلیا۔ پولیس نے ریسٹورنٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو قبضے میں لے لیا ہے اور فوٹیج میں دیگر کھانا کھانے والے افراد کو تلاش کر کے ان سے معلومات لینے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق بچوں کے والدکنسٹرکشن کمپنی کے مالک اور وہ کام کے سلسلے میں لاہور گئے ہوئے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ڈیفنس میں مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچوں کی ہلاکت کا واقعہ بہت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کررہے ہیں‘ متوفی بچوں کی والدہ سے ملا ہوں‘ جن کا کہنا ہے کہ وہ ایروزو ناگرل سے کھانا کھاکر رات 2 بجے واپس گھر پہنچے اور صبح 6 بجے حالت غیر ہوگئی۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس امیر شیخ کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان نے جس ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا وہاں سے نمونے بھی حاصل کرلئے ہیں ، جبکہ فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں‘ بچوں اور ان کی والدہ کی طبیعت رات 2 بجے خراب ہونا شروع ہوئی‘ اس کے بعد صبح 6 بجے بچوں نے اُلٹیاں شروع کردیں۔ دریں اثناء اس کیس کی تحقیقات پر مامور تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیملی کو صبح خاتون کے ماموں اور دیور اسپتال لے کر آئے تھے اور خاتون چند روز قبل ہی بچوں کے ساتھ سسرال آئی تھی۔ متاثرہ خاندان کے اپنے گھر کی مرمت کا کام چل رہا ہے‘ خاتون کے شوہر کا لاہور میں کنسٹرکشن کا کام ہے اور وہ واقعہ کے وقت شہر سے باہر تھے تاہم اطلاع ملتے ہی وہ کراچی پہنچ گئے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیملی کے گھر کا بھی انویسٹی گیشن ٹیم نے معائنہ کیا ہے‘ گھر کے اندر بھی کھانے کی بیشتر چیزیں موجود تھیں‘ گھر میں اور فریج میں موجود اشیاء کے بھی نمونے لئے گئے ہیں۔ متاثرہ خاتون کے شوہر‘ ماموں اور دیور سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ گھر میں خاندان کے 5 افراد موجود ہیں‘ تمام کے بیان لئے گئے ہیں ۔ ڈائریکٹرسندھ فوڈ اتھارٹی ابرار شیخ کی جانب سے وزیراعلٰی کوپیش کی گئی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ روزقبل متعلقہ ریسٹورنٹ کو صحت وصفائی کی صورت حال بہتربنانے کا نوٹس دیا گیا تھا، جونظراندازکر دیا گیا۔ بچوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ ریسٹورنٹ سے 12 فوڈ سیمپل حاصل کرلیے گئے ہیں، جولیب ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیئے گئے ہیں، جب کہ ریسٹورنٹ کوسیل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیفنس پارک کی شام 4 بجے سے بند ہونے کے وقت تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ اس ضمن میںساؤتھ سٹی اسپتال شعبہ حادثات کے سربراہڈاکٹر عالمگیر نے بتایا کہ ڈیڑھ سالہ احمد اسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ گیا تھا جبکہ 4 سالہ محمد دوران علاج چل بسا‘ تمام افراد دوپہر 2 بج کر 45 منٹ پر اسپتال پہنچے‘ اسپتال کے شعبہ حادثات کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرز بچوں کی والدہ عائشہ کو بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں‘ ان تینوں کو صبح سے اُلٹیاں ہورہی تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عالمگیر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں بتاسکتے کہ کس وجہ سے بچوں کی موت واقع ہوئی‘ ہمیں متاثرہ خاتون نے یہی بتایا کہ کھانا کھانے کے بعد 2 بجے رات وہ گھر پہنچے تھے جس کے بعد صبح سے طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی اور اُلٹیاں شروع ہوگئیں۔ ایس ایس پی سائوتھ کے مطابق ریسٹورنٹ سیل کرکے فوڈ اتھارٹی کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ ہوٹل سے کھانا کھانے کے بعد طبیعت خرابی کا کوئی اور واقعہ رپورٹ نہیں ہوا‘ تحقیقات میں وقت لگے گا‘ تاہم 13 نومبر کو مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچوں کی موت کے معاملے پر مقدمہ نمبر 206/2018 بچوں کے والد احسن کی مدعیت میں ساحل تھانے میں درج کروایا گیا‘ مقدمے میں دفعات 322 یعنی قتل بالسبب اور 272 یعنی زہر خورانی شامل کی گئی۔ ایف آئی آر میں بچوں کے والد بھائی سبحان نے بچوں اور ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہونے اور احمد کے انتقال پر بتایا جس پر وہ لاہور سے کراچی آئے۔ ایف آئی آر میں بچوں کے والد کا کہنا تھا کہ اس کی اہلیہ کے مطابق وہ بچوں کو 5 بجے ایموزمنٹ پارک لے کر گئی جہاں بچوں نے کینڈی اور چپس خرید کر کھائے تھے‘ بعد میں 11 بجے ڈیفنس کی زمزمہ ریسٹورنٹ پر واقع ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچوں کی ماں کا کہنا ہے کہ اتوار کے دن 2 بجے بچوں اور ان کی طبیعت خراب ہوئی جس پر بھائی سبحان بچوں اور عائشہ کو لے کر اسپتال پہنچے‘ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کیں جبکہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن سائوتھ طارق دھاریجو کے مطابق عائشہ کے گھر میں 5 افراد رہائش پذیر ہیں جن میں 2 نوکر‘ ان کا دیور‘ خالہ اور ماموں شامل ہیں‘ واقعہ کی تفتیش کے لئے پولیس نے گھر کا بھی دورہ کیا اور کچن میں کچھ جوسز رکھے ہوئے تھے جو کہ آدھے خالی تھے جبکہ بیڈ روم میں ڈبل روٹی رکھی ہوئی تھی‘ اس کے علاوہ فریج میں کچھ کھانے پینے کی اشیاء رکھی تھیں‘ ان تمام اشیاء کے سیمپلز لے لئے گئے ہیں۔ پولیس نے تمام پانچوں افراد کے بیانات قلمبند کئے ہیں۔ اس ضمن میں ایڈیشنل سرجن ڈاکٹر شیراز کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم مکمل طریقے سے کیا گیااور تمام نمونے حاصل کئے گئے ہیں‘ ابتدائی طور پر موت کی وجہ زہر خورانی ہی معلوم ہوتی ہے۔ ایڈیشنل پولیس سرجن نے مزید کہا کہ پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ آنے میں 5 سے 10 روز کا وقت درکار ہے اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی جس کے بعد متوفین کوکلفٹن کی جنازہ بعد نماز ظہر خیابان اتحاد سے متصل عائشہ مسجد میں ادا کی گئی۔ بعدازاں جاں بحق ہونے والے بچوں کا جسد خاکی ڈیفنس فیز 7 میں لے جایا گیا جہاں انہیں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا‘ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ واقعہ کے بعد بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم ریسٹورنٹ کا معائنہ کرنے پہنچی۔ ریسٹورنٹ کے عقبی دروازے سے فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے کچن کا معائنہ کیا۔ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ریسٹورنٹ کے عقبی دروازے کو بھی سیل کردیا لیکن یہاں پولیس نے انکشاف کیا کہ واقعہ کو تمام پہلوئوں سے دیکھ رہے ہیں جس ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا گیا تھا‘ فوڈ اتھارٹی نے وہاں سے سیمپلز لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ کی کیمیکل لیبارٹری میں جانچ کرنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے پرائیویٹ لیبارٹری میں سیمپلز بھیجے جائیں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ سیمپلز کو جانچ کے لئے پنجاب بھیجا جائے‘ بچوں کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے‘ ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد از جلدان کی رپورٹ حاصل کرلیں گے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ریسٹورنٹ سے جن افراد کو حراست میں لیا گیا تھا‘ ان کی جانچ پڑتال کے بعد ان کو رہا کردیا گیا ہے تاہم تفتیش جاری تھی کہ کلفٹن میں سیل کئے جانے والے معروف ریسٹورنٹ کے دوسرے گودام سے ایک سال پرانی زائد المیعاد شربت کی سینکڑوں بوتلیں برآمد ہوئیں۔ ریسٹورنٹ کے دوسرے گودام پر چھاپے کے دوران 70 کلو سے زائد سڑا ہوا گوشت بھی برآمد کیا گیا۔ سڑا ہوا گوشت اور زائد المعیاد شربت کا سیمپل لینے کے بعد تلف کردیا گیا۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے دوران تفتیش کسی دوسرے گودام کی موجودگی سے انکار کیا تھا تاہم انتظامیہ کے مشکوک بیان پر ریسٹورنٹ کے اطراف علاقوں کی نگرانی کی گئی‘ خفیہ نگرانی کے دوران ریسٹورنٹ انتظامیہ کو زائد الیمعاد شربت اور گوشت منتقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ریسٹورنٹ مالکان سے سندھ فوڈ اتھارٹی کے افسران اور پولیس تفتیش کررہی ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابرار شیخ نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں لیکن ریسٹورنٹ مالکان رابطے میں نہیں آرہے ہیں۔ دوسری جانب سربمہر ریسٹورنٹ کی سیل انتظامیہ نے توڑ دی‘ انتظامیہ نے ریسٹورنٹ سے کھانے پینے کا سامان نکالنے کی کوشش کی‘ سندھ فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ریسٹورنٹ کیس سرکار کی پراپرٹی ہے‘ انتظامیہ سیل نہیں توڑ سکتی جبکہ کلفٹن میں 2 بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر سیل کئے گئے ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے از خود سیل توڑ دی۔ انتظامیہ کی جانب سے ریسٹورنٹ میں کھانے پینے کے سامان نکالنے کی کوشش پر سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے گودام سے سامان منتقل کردیا‘ ملزم کو گرفتار کرلیا۔ کیس کی تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ تقریباً 300 افراد نے اسی ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا لیکن کسی بھی اسپتال میں فوڈ پوائزنگ کا مریض نہیں لایا گیا۔ مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ واقعہ کے دن ریسٹورنٹ کی سیل 2 لاکھ 86 ہزار روپے تھی‘ تقریباً 300 افراد نے واقعہ کے دن ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا‘ تفتیشی افسر کے مطابق شہر کے تمام اسپتال چیک کئے گئے لیکن 300 میں سے کسی کو فوڈ پوائزن نہیں ہوا۔ پولیس خاندان امور سمیت دیگر عوامل پر بھی تفتیش کررہی ہے تاہم گھر کو سیل نہیں کیا گیا اور گھر سے تمام شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اسپتال میں زیر علاج والدہ کے مکمل صحت یاب ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے کیونکہ ماں کا بیان اہمیت کا حامل ہوگا جس سے پیشرفت متوقع ہے۔ دریں اثناء بچوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے تحقیقاتی کمیٹی نے ایریزو نا گرل‘ چنکی منکی اور متاثرہ گھر کا معائنہ کیا اور کچھ شواہد اکٹھے کئے ہیں اور واقعہ کا ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔ مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچوں کے انتقال کے معاملے پر سندھ فوڈ اتھارٹی کی نااہلی سامنے آگئی۔ اس حوالے سے پریشانی کا شکار ہے کہ سہولیات کے فقدان کے باعث زمزمہ کے ریسٹورنٹ سے حاصل ہونے والے نمونے کہاں ٹیسٹ کرائے جائیں۔ انکشاف ہوا کہ زمزمہ کے جس ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا وہاں سے حاصل ہونے والے نمونے جانچنے کے لئے فوڈ اتھارٹی کے پاس لیبارٹری ہی موجود نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی میں کوئی فوڈ انسپکٹر بھی موجود نہیں ہے جبکہ کیمیکل ایگزامیشن کے لئے کوئی ایکسپرٹ بھی نہیں ہے جبکہ بچوں سے حاصل ہونے والے نمونے اتھارٹی کے پاس محفوظ کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس واقعے کے بعد سندھ فوڈ اتھارٹی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا جو بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ پرائیویٹ ممبرزنے بھی افسران تقرری کے حوالے سے وقت مانگ لیا۔ اجلاس میںڈائریکٹر سندھ فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ اتھارٹی نیا ادارہ ہے‘ اس لئے لوگوں کی تقرری میں وقت لگے گا۔ ڈائریکٹر سندھ فوڈ اتھارٹی ابرار شیخ نے کہا کہ 7 ماہ گزر گئے‘ لیبارٹری کی فزیبلٹی رپورٹ بھی نہیں بنی۔ پرائیویٹ ممبرز نے بھی افسران کی تقرری کے حوالے سے وقت مانگ لیا۔ پرائیویٹ ممبرز کی طرف سے کہا گیا کہ افسران کی تقرری سے متعلق وہ جلد اپنی سفارشات پیش کردیں گے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 ماہ میں یہ تیسرا اجلاس ہے تاہم افسران کی تقرری سے متعلق کوئی سفارش نہیں دی گئی‘ چوتھا بورڈ اجلاس آئندہ 10 روز میں متوقع ہے۔ گزشتہ روز سندھ فوڈ اتھارٹی نے محکمے میں باقاعدہ بھرتیاں نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بورڈ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اتھارٹی میں 6 عارضی سیفٹی فوڈ انسپکٹر کام کررہے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہوٹلز اور فوڈ آئوٹ لیٹس پر چھاپوں کے لئے ڈیلی ویجز کی بنیاد پر جامعات کے طلبہ سے فوڈ سیفٹی آفیسرز کا کام لیا جاتا ہے۔
صوبائی وزیر خوراک ہری رام کشوری لعل نے کہا ہے کہ کلفٹن میں 2 معصوم بچوں کی ہلاکت کا واقعہ افسوسناک ہے ‘ معاملے کی تحقیقات جلد مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ‘ عوام کو ہم سے زیادہ توقعات میں سندھ فوڈز اتھارٹی کو مکمل فعال کرنے کے لیے قوانین کو7 روزمیں حتمی شکل دے دی جائے گی‘ یہ بات انہوںنے محکمہ خوراک کے کمیٹی روم میں سندھ فوڈز اتھارٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی‘ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم کسی کاکاروبار بند کرنا نہیں چاہتے ‘ لیکن مضر صحت اشیاء کی فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے ‘ تمام ریسٹورنٹ ‘ ہوٹل ‘ کینٹین اور کھانے پینے کی اشیاء کا کاروبار کرنے والے معیار کو یقینی بنائیں‘ جلد لائسنس کا اجراء شروع کیاجائے گا‘ لائسنس اسی شخص اور کمپنی کو ملے گا‘ جو معیار پر پورا اتریں گے‘ڈائریکٹر فوڈز اتھارٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ فوڈاتھارٹی حال ہی میں قائم کی گئی ہے ‘ اس کا موازنہ دوسرے صوبوں سے نہیں کیا جاسکتا‘ دیگر صوبوں میں فوڈ اتھارٹی کے قیام کو 3 سے 7 سال کا عرصہ ہوچکا ہے‘ انہوںنے تردید کیا کہ مختصر عرصے میں 39 غیر قانونی فیکٹریوں کو سیل کیاہے‘ جس میں تیل ‘کنفیکشریز ودیگر شامل ہیں‘14 ایف آئی آر درج کی گئی‘ منرل واٹر کی 17 کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے‘ ایمپریس مارکیٹ میں25 ہزار ٹن مضر صحت گوشت طلب کیا‘ جبکہ 5869 ہوٹلوں ‘ کینٹینو ں‘ فیکٹریوں کا معیار بہتر کرنے کے لیے نوٹسز جاری کئے گئے‘کلفٹن میں مضر صحت کھانا کھانے سے 2 کمسن بھائیوں ڈیڑھ سالہ احمد اور 4 سالہ محمد کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہے‘ ایس ایس پی انویسٹی گیشن جنوبی زون ون طارق دھاریجو کا کہناہے کہ پولیس نے زم زمہ ریسٹورنٹ پر ریسٹورنٹ کی تمام ریکارڈ نگ محفوظ کرنے والا ڈی وی آر قبضے میں لے لیا‘ مقدمہ درج ہوچکا ہے‘ ڈی وی آر میں محفوظ سی سی ٹی وی فوٹیج کو اپ لوڈ کرایاجائے گا‘ انہوںنے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم پلے لینڈ اور بچے جس رہائشی اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے ‘ وہاں سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرے گی‘ واقعہ کی تحقیقات کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے‘ ایک ٹیم میں ایس ایس پی سائوتھ پیر محمد شاہ ‘ایس ایس پی انویسٹی گیشن سائوتھ ون طارق دھاریجو اور ایس پی سہائی عزیر شامل ہیں‘ جبکہ دوسری ٹیم میں 3 تھانوں کے ایس آئی او ز کو رکھا گیا ہے‘ طارق دھاریجو نے بتایا کہ آٹو پسی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیہ کاروں کی رپورٹ تک موصول نہیں ہوئی‘ تاہم اسٹیڈیم پر واقع اسپتال کی لیبارٹری اور کلفٹن کے اسپتال کی لیبارٹری کی کچھ رپورٹس پولیس کو مل گئی ہے‘ جس سے تفتیش آگے بڑھائیںگے‘ پورا کیس کھانوں کے نمونوں ‘ پوسٹ مارٹم اورکیمیائی تجزیاتی رپورٹ پر منحصر ہے‘ انہوںنے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے سوال نامہ بھی تیار کرلیاہے ۔

(438 بار دیکھا گیا)

تبصرے