Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سفاک باپ…بن گیاجلاد!!

سید حسن رضا شاہ جعفری جمعه 23 نومبر 2018
سفاک باپ…بن گیاجلاد!!

کراچی کے علاقے اورنگ آباد تھانہ پاپوش کی حدود میں ظالم سفاک باپ نے گلے میں رسی ڈال کر اپنے جواں سال بیٹے کو قتل کردیا‘ پولیس نے مقتول کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی‘ واقعے کے مطابق کراچی میں پاپوش نگر تھانے کی حدود میں یہ واقعہ پیش آیا‘ جہاں چاندنی چوک سے تھوڑا آگے الشفاء اسپتال والی گلی میں واقع مکان نمبر C-66 جمہوری کالونی میں ظالم باپ نے معمولی تلخ کلامی کے بعد گلے میں رسی ڈال کر اپنے 17 سالہ بیٹے کو قتل کردیاتھا‘ پولیس نے بچہ کی نعش اطلاع ملنے کے بعد سرکاری اسپتال منتقل کردی‘ جسے پولیس کارروائی کرنے کے بعد پولیس نے ورثاء کے حوالے کردیا‘ پولیس نے بچے کے قاتل باپ کو حراست میں لے کر واقعے کی تفتیش شروع کردی‘ اس ضمن میں تھانہ پاپوش نگر کے تفتیشی افسر منصور احمد نے قومی اخبار کو بتایا کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع بذریعہ فون دی گئی‘ جس پر پولیس نے فوری طورپر جائے وقوعہ پر پہنچ کر بچے کی نعش کو ضابطہ کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا ‘ ابتدائی تفتیش میں بچے کے والد نے بتایا کہ بچے نے خودکشی کی ہے ‘ لیکن اسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کو گلا دبا کر قتل کیاگیاہے‘ جس کے بعد پولیس نے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے بچے کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم بچے کے باپ کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی‘ کیونکہ واقعے کے وقت بچے کا باپ ہی گھر پر موجود تھااور اہل علاقہ اور پڑوسیوں سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نشے کا عادی ہے اوراکثر گھر میں لڑائی جھگڑے کرتا رہتا تھا ابتدائی طورپر ملزم نے بچہ کو قتل کرنے کے بعد واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی ‘ لیکن بچے کی میڈیکل رپورٹ نے راز فاش کردیا ہے‘ ابھی اس حوالے سے تفتیش جاری ہے ‘ ملزم بہت شاطر شخص ہے ۔
واقعے کے حوالے سے مقتول کی والدہ نے قومی اخبار کو بتایا کہ میں نے 7 سے 8 ماہ قبل جمہوریہ کالونی میں کرائے پر مکان لیا تھا‘ میرے 4 بچے ہیں‘ جس میں علی سب سے بڑا تھااور وہ محلے میں واقع ایک پکوان کی دکان پر کام کرتا تھا‘ وہ صبح 10 سے 11 بجے واپسی ہوتی تھی‘ جب سے میری شادی ہوئی ہے ‘ تب سے آج تک میں جاب کرکے اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت خود کرتی ہوں‘ میرا شوہر نشے کا عادی ہے ‘ بجائے ہمیں دینے کے گھر سے رقم کا مطالبہ کرتا رہتا تھا‘ جس کی وجہ سے اکثر گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے‘ میرا مقتول بیٹا بھی اس وجہ سے بہت پریشان رہتا ‘ ملزم اکثر شراب پی کر جب رات کو گھر آتا تو گھر میں مارپیٹ شروع کردیتا تھا‘ اکثر میرا بیٹا مجھے بچانے کے لیے آگے بڑھتا تو ملزم اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔
واقعے والے دن معمول کے مطابق گھر میں ناشتہ وغیرہ بنا کر قریب 10 بجے کام پر چلی گئی‘ تقریبا ً 1 بجے میرے پاس فون آیا کہ جلد سی سے گھر آجائیں‘ آپ کے بچے نے خودکشی کرلی ہے‘ جب میں گھر پر گئی تو دیکھا کہ گھر پر لوگوں کا رش لگا ہوا ہے اور پولیس بھی موجود ہے ‘ جبکہ میرے بچے کی نعش کمرے میں پڑی ہے ‘ جسے پولیس نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا‘ جسے پولیس نے کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہمارے حوالے کیا‘ جسے ہم نے غسل ‘ کفن اور نماز جنازہ کے بعد آہوں اور سسکیوں میں پاپوش نگر قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا‘ پولیس کارروائی کے بعد پولیس نے مجھے بتایا کہ آپ کے بیٹے کو قتل کیاگیاہے‘ میڈیکل رپورٹ بھی یہی کہتی ہے کہ جس کے بعد میں نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کروایا‘ چونکہ مجھے بھی ایسا ہی لگاتا تھاکہ ملزم نے ہی بچے کو قتل کیاہے‘ ورنہ میرا بچہ بڑے دل کا مالک تھا‘ وہ کبھی بھی اس طرح کا قدم نہیں اٹھاتا ‘ میرا شوہر ایک درندہ صفت انسان ہے ‘ انہی وجوہات کی بناء پر 5 سال قبل میں نے اس سے علیحدگی اختیار کی تھی‘ لیکن بعد میں ہمارے بچوں کی وجہ سے دوبارہ صلح نامہ ہوگیاتھا‘ شوہر کے رشتہ دار اثرور سوخ رکھنے والے ہیں‘ وہ ہمیں طرح طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں‘ میری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے ‘ ہمارے ساتھ تعاون کیاہے ‘ ہمیں جان ومال کا تحفظ دیا جائے‘ جبکہ پولیس بنا کسی دبائو میں آئے بغیر انصاف فراہم کیا ۔

(369 بار دیکھا گیا)

تبصرے