Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ایمپرس مارکیٹ آزاد

عارف اقبال جمعه 16 نومبر 2018
ایمپرس مارکیٹ آزاد

خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ان دنوں کراچی کے دل یعنی صدر کی بائی پاس سرجری ہورہی ہے اور اس کی کاروباری شریانوں کو بلاک کرنے والی تجاوزات کو ہٹایا جارہا ہے۔ پرانے کپڑوں‘ خشک میوہ جات‘ پرندوں کی تجارت اور کھانے پینے کے سامان سے منسلک ہزاروں دکانیں مسمار کردی گئیں‘ شہری حکومت کے اس مشترکہ صفائی آپریشن کے نتیجے میں نوآبادیاتی دور کا اصل صدر اہلیان کراچی کو واپس مل جائے گا۔ ہفتہ و اتوار کو صدر میں گاڑیوں کا داخلہ بند ہوگا تاکہ لوگ بے فکر ہوکر آلودہ فضاء سے پاک ماحول میں پیدل گھوم سکیں۔پرانی کتابوں اور دستکاری کے نمونے خرید سکیں اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ سکون سے کچھ کھاپی سکیں اور اسی طرح وقت گزار سکیں جیسے7 سے8دہائیاں پہلے کے صدر کے بارے میں سنا کرتے تھے۔ بلدیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ تجاوزات اور دکانیں گزشتہ 30 برس سے بلدیہ کراچی کو کرایہ ادا کررہی تھیں‘ انہیں شہر کے دیگر علاقوں میں متبادل جگہ دی جائے گی‘ صدر میں دوبارہ فٹ پاتھیں بلاک نہ ہوں اسے یقینی بنانے کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی بنائی جارہی ہے۔ ستمبر 2010ء میں نافذ ہونے والے سندھ پبلک پراپرٹی (اینٹی انکروچمنٹ ) ایکٹ کا مقصد سرکاری زمین واگزار کروانا ہے۔ اس قانون کے احاطے میں فلاحی پارک ‘ کھیل کے میدان‘ فٹ پاتھ‘ نالیاں‘ سڑک‘ بازار‘ سرکاری عمارات اور غیرقانونی کچی آبادیاں شامل ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت ناجائز قابضین کو 10 برس تک قید اور جس اراضی پر قبضہ کیا گیا‘ اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے شہر بھر سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد صدر کے علاقے کو ماڈل علاقہ بنانے کے اقدامات شروع کئے گئے‘ سب سے پہلے صدر اور خصوصاً جہانگیر پارک کے اطراف کے علاقے کو ماڈل بنانے کے لئے گزشتہ روز کارروائی شروع کی گئی‘ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے لئے پیر کی صبح سے ہی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں۔ بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی افسران‘ پولیس و رینجرز کی اضافی نفری‘ کے الیکٹرک اور متعلقہ اداروں کے افسر پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔بھاری مشینری‘ ٹرک اور دیگر سامان پریڈی تھانے پہنچادیا گیا تھا‘ کارروائی صبح شروع ہونا تھی لیکن پھر فیصلہ کیا گیا کہ 12 بجے کے بعد کارروائی شروع کی جائے اور اس سلسلے میں 4 الگ‘ الگ ٹیمیں تشکیل دی گئیں جو کہ مختلف مقامات پر کارروائی کریں گے۔ ساڑھے 12 بجے پارکنگ پلازہ اور پاسپورٹ آفس سے تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی سے 2 روز قبل تمام پتھاریداروں کو نوٹس جاری کئے گئے تھے‘ زیادہ تر سڑکوں سے پتھاریداروں نے اپنے پتھارے خود ہٹالئے تھے لیکن بعض جگہوں پر پتھارے موجود تھے جو کہ پیر کی صبح کارروائی شروع ہوتے ہی ہٹادیئے گئے‘ اس دوران پارکنگ پلازہ کے سامنے شہاب الدین مارکیٹ میں پنکچر کی دکان گرائی گئی تو دکاندار نے دعویٰ کیا کہ اس کی دکان جائز جگہ پر تھی‘ اس کے ساتھ ناانصافی کی گئی جس پر وہاں موجود افراد مشتعل ہوگئے اور مزاحمت کرنے لگے۔ مشتعل افراد نے سڑک پر ٹائر جلا کر نعرے بازی کی جس پر پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔اس دوران تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رہی۔ اسی طرح صدر سے جو راستے لکی اسٹار کی جانب جاتے ہیں‘ وہاں بھی پتھاروں کا خاتمہ کردیا گیا اور دکانوں کے آگے قائم شیڈ توڑ دیئے گئے۔ پاسپورٹ آفس سے متصل گلیوں میں جاری کارروائی کے دوران مختلف ریسٹورنٹس کے باہر فٹ پاتھ گھیرنے والوں کی تعمیرات مسمار کردی گئیں۔ اس دوران ایک ریسٹورنٹ کے ملازمین نے سخت مزاحمت کی اور مشینری کے آگے کھڑے ہوگئے جس پر کچھ دیر کے لئے کارروائی روک دی گئی تاہم پولیس حکام نے مذاکرات کرکے انہیں وہاں سے ہٹادیا۔کارروائی کے دوران مختلف دکانوں کے آگے بنے شیڈ مسمار کردیئے گئے‘ سی بریز کے قریب انٹر سٹی بسوں کے غیرقانونی اڈے پر کارروائی کے دوران ٹرانسپورٹروں کے دفاتر کے باہر فٹ پاتھ پر قبضے ختم کرادیئے گئے۔ کارروائی کے دوران راہ گیروں کا رش لگ گیا‘ جنہیں منتشر کرنے کے لئے پولیس نے کئی بار لاٹھی چارج بھی کیا۔صدر میں پتھاروں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی 3 اطراف پارکنگ پلازہ‘ پاسپورٹ آفس اور سی بریز پلازہ سے شروع کی گئی تھی۔اس دوران بھاری مشینری کے علاوہ درجنوں ٹرک‘ پولیس موبائلیں اور گاڑیاں موجود تھیں جبکہ راہ گیروں اور تماش بینوں کے رش سے کارروائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔افسران میگافون کے ذریعے بار بار راہ گیروں کو آپریشن کے مقام سے ہٹنے کی ہدایات دیتے رہے لیکن راہ گیر جانے کے بجائے وہاں کھڑے کارروائی کا انہماک سے جائزہ لیتے رہے۔ دریں اثناء صدر‘ بوہری بازار‘ زینب مارکیٹ‘ ریگل چوک‘ لکی اسٹار‘ پارکنگ پلازہ اور راجہ غضنفر علی روڈ پر قائم تجاوزات کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کا پہلا مرحلہ رات 8 بجے تک مکمل ہوگیا۔ کارروائی کے دوران فٹ پاتھوں پر قائم دکانیں مسمار کردی گئیں اور سینکڑوں پتھارے اور شیڈز سامان ضبط کرلیا گیا۔ ڈائریکٹر انسداد تجاوزات نے بتایا کہ پیر کو کارروائی کے دوران مزاحمت کرنے پر 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیہ عظمیٰ کراچی‘ تمام اداروں اور محکموں کی جانب سے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف مشترکہ کارروائی گزشتہ 10 روز سے جاری ہے۔کارروائی کے دوران بھاری مشینری کی مدد سے غیرقانونی تعمیرات مسمار کی جارہی ہیں۔ صدر میں غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے‘ کارروائی سے قبل بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شہر بھر میں غیرقانونی تعمیرات کے ازخود خاتمے کے لئے بینرز آویزاں کئے گئے تھے‘ شہر کے کئی علاقوں میں دکانداروں نے رضاکارانہ طور پر دکانوں کے باہر قائم چبوترے‘ چھپڑے‘ سائن بورڈ اور تجاوزات کو ہٹادیا تھا۔مارکیٹوں کے بیشتر دکانداروں کا خیال تھا کہ تجاوزات کے نام پر ہونے والی کارروائی میں کچھ بھی نہیں ہوگا‘ اس طرح کی باتیں گزشتہ کئی سال سے سن رہے ہیں‘ تاہم 10 روز قبل کے ایم سی سمیت کئی اداروں کی مشترکہ کمیٹی نے انسداد تجاوزات کے عملے کے ساتھ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کردی۔ صدر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو ایمپریس مارکیٹ کے اطراف دکانداروں نے شامیانے لگاکر احتجاجی دھرنا دیا جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے آکر دکانداروں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کی اعلیٰ قیادت سے بات کرکے مسئلے کو حل کرائیں گے۔ ہفتے کی شب محکمہ انسداد تجاوزات کا عملہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں قائم تمام غیر قانونی مارکیٹوں کو گرانے پہنچ گیا‘ اس موقع پر دکانداروں کی جانب سے ممکنہ مزاحمت کے پیش نظر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی‘ دکانداروں نے فورس کا گھیرائو دیکھ کر رضاکارانہ طورپر اپنی دکانیںخالی کرنا شروع کردیں ابتدائی طور دکانداروں کو سامان اٹھانے کے لیے رات 2 بجے تک کا وقت دیا گیا‘ تاہم دکانداروں کی سفارش پر وقت صبح تک بڑھا دیاگیاتھااور صبح 7 بجے کے ایم سی کے عملے نے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کی نگرانی میں ایمپریس مارکیٹ کے چاروں اطراف سے بھاری مشینری کے ذریعے غیر قانونی مارکیٹوں کو مسمار کرنا شروع کردیااور دیکھتے ہی دیکھتے پوری مارکیٹ مٹی کا ڈھیر بن گئی‘ا س موقع پر دکانداروں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی‘ ڈائریکٹر لینڈ کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا‘ جب تک ایک بھی غیر قانونی دکان قائم ہے ‘ غیر قانونی تجاوزات او رپتھاروں کے خلاف کارروائی مزید 25 دن جاری رہے گی اورکراچی کے ہر علاقے میں کارروائی کی جائے گی‘ اس موقع پر ایمپریس مارکیٹ کے دکانداروں کا کہناتھا کہ تبت سینٹر کے سامنے پریڈی تھانے کے چاروں طرف غیر قانونی دکانیں ہیں‘ فریئر مارکیٹ کے عقب میںواقع نالے پر اور اس سے متصل سرکاری اسکول کے اطراف میں نہ صرف غیر قانونی دکانیں ہیں‘ بلکہ مکانات بھی قائم ہیں‘ اسی طرح اکبر روڈ نالے پر بیت الخلاء کو توڑ و ‘یونین آفس اور دکانیں قائم کردی گئی تھیں‘جنہیں ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا‘ پاسپورٹ آفس کے قریب گلیوں میں غیر قانونی ہوٹل قائم ہیں‘ جوکہ کے ایم سی کے عملے کو نظرنہیں آئے ‘ دکانداروںنے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ جن علاقوںمیں کارروائی کے بعد بھی غیر قانونی تجاوزات موجود ہیں‘ نہ صرف انہیں مسمار کرنے کے احکامات دینے چاہئیں ‘ بلکہ جس ٹیم نے ان علاقوں میں آپریشن کے باوجود انہیں مسمار نہیں کیا ‘ ان کی مجرمانہ غفلت پر بھی ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ‘ تاکہ تجاوزات قائم ہونے کی حقیقت سامنے آسکے ‘صدرمیں پتھاروں اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے شروع کئے جانے والے آپریشن کے دوران صدر‘ ریگل ‘ لکی اسٹار ‘ ایمپریس مارکیٹ ‘ عبداللہ ہارون روڈ ‘ نمائش ‘ پریڈی اسٹریٹ ‘ تبت سینٹر ‘ ایم اے جنا ح روڈ ‘ برنس روڈ ‘ بولٹن مارکیٹ‘ جامع کلاتھ مارکیٹ کے اطراف آئی آئی چندریگر روڈ ‘نیو ایم اے جناح روڈ ، پیپلز سیکریٹریٹ اور اطراف کی ذیلی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا‘ٹریفک جام میں ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی اور شہری شدید اذیت سے دوچار رہے ‘ ٹریفک جام میں ایمبولینس بھی پھنسی رہی‘ جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار مسافر بھی بے حال ہوگئے اورشہریوں نے منٹو ںکا سفر گھنٹوں میں طے کیا‘ شام کو دفاتر سے گھروںکو واپس جانے والے شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا‘ شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے ‘واضح رہے کہ صدر سمیت ملحقہ علاقوںمیں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی پیشگی اطلاع کے باوجود ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے شہریوں کے لیے متبادل راستوں کا نہ تو کوئی انتظام کیاگیا اور نہ ہی ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی‘ جس کی وجہ سے صدر سمیت ملحقہ علاقوںمیں دن بھر بدترین ٹریفک جام رہنے کی وجہ سے شہریوں کو اذیت ناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور مصروف شاہراہوں پر دن بھر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں‘ جبکہ صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف کے دکانداروں کا احتجاج کے دوران کا کہنا تھا کہ وہ 50 سال سے باقاعدگی سے کے ایم سی کو کرایہ ادا کررہے ہیں‘ چنانچہ اگر متبادل جگہ فراہم کی جاتی تو دکانیں مسمار کرنے کے خلاف مزاحمت کریں گے‘ ایمپریس مارکیٹ کے تاجر رہنمائوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے 2 سابق ناظم اعلیٰ ان دکانوں کو قانونی قرار دے چکے ہیں‘ سپریم کورٹ کے احکامات پر کے ایم سی نے صدر ایمپریس مارکیٹ اور اس سے ملحقہ مارکیٹوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کیاتو ٹھیلے پتھارے ہٹانے کے ساتھ فٹ پاتھوں اور دکانوں کے سامنے سڑکوں پر قائم تجاوزات ہٹانے کی تاجر برادری بھی حمایت کرتی رہی ہے‘ تاہم میئر کراچی کے حکم پر کے ایم سی کی لیز مارکیٹوں پر بھی دھاوا بول دیاگیااور یو ں ایمپریس مارکیٹ کے اطراف عمر فاروق مارکیٹ‘ انڈا مارکیٹ ‘ مصالحہ مارکیٹ‘ خشک میوہ جات اور دیگر مارکیٹوںکے تاجر ایمپریس مارکیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر بیٹھ گئے‘ دوسری جانب الیکٹرونکس مارکیٹ ‘ اکبر روڈ کی موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ اور دیگر مارکیٹوںکے تاجروں نے بھی احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا ہے‘ تاجروں کا کہنا ہے کہ لیز دکانیں مسمار کرنے والے عدلیہ اور حکومت کے خلاف سازش کررہے ہیں‘ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی دکانوں سے کرایہ اورسائن بورڈپر سالانہ ٹیکس وصول کرتی ہے آپریشن سے متاثرہ دکانداروںنے بتایا کہ وہ بلدیہ جنوبی کو سائن بورڈ اور چھجوں کے ٹیکس کی ادائیگی کرتے آرہے ہیں‘ ٹیکس ادائیگی رسید کے مطابق بلدیہ جنوبی نے چھجوں اور سائن بورڈز کا ٹیکس لینے کے لیے خیبر گروپ نامی کمپنی کو ٹھیکہ دے رکھاہے‘ جس کا دفتر کلفٹن بنگلہ نمبر 2/51 بلاک 2 میں قائم ہے‘ تاجروں کے مطابق زیب النساء اسٹریٹ کے تمام دکاندارخیبر گروپ کو ہی ٹیکس ادا کرتے آرہے ہیں‘ انہوںنے بتایا کہ مذکورہ کمپنی دکانداروںسے 10 سے20 ہزار سے بھی زائد ٹیکس لیتی رہی ہے‘ مذکورہ کمپنی کلفٹن کے اطراف بھی سائن بورڈز کی مد میں پیسے لیتی ہے دکانداروں نے بتایا کہ گزشتہ 40 سال سے مارکیٹ میں کام کررہے ہیں اور اتنے ہی سال سے ٹیکس ادا کرتے آرہے ہیں‘ انہوںنے بتایا کہ زیب النساء میں تمام دکانیں قانونی ہیں‘ جن کی تمام دستاویزات موجود ہیں‘ بلدیہ جنوبی کی اجازت کے بعد ہی سائن بورڈ تبدیل کرکے لگایاتھا‘ تاہم لاکھوں روپے ٹیکس ادائیگی کے باوجود ان کا سائن بورڈ گرادیا گیا‘ اس ضمن میں ڈائریکٹر انکروچمنٹ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں 15 تاریخ کو رپورٹ جمع کرائیں گے‘ جس میں آپریشن سے متعلق بتایاجائے گا‘ انہوںنے کہا کہ کسی بھی دکاندار کو ہمیشہ کیلئے چھجے اورسائن بورڈ لگانے کی اجازت نہیں دی ‘ چالان میں واضح لکھا ہوتا ہے کہ مذکورہ چیز عارضی ہے ‘ جس کے خلاف کسی بھی وقت کا رروائی کی جاسکتی ہے‘ انہوںنے کہا کہ ہمارے ساتھ کے الیکٹرک ‘ سوئی سدرن ‘ کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈی ایم سی جنوبی سمیت دیگر عملہ بھی موجودہے ‘ تاہم دکاندار کس کو ٹیکس دیتے ہیں‘اس سے کوئی مطلب نہیں‘ غیر قانونی چیزوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا‘انہوںنے مزید بتایا کہ ایمپریس مارکیٹ میں دکانداروں کو دیئے گئے چالان میں واضح لکھا ہے کہ دکان جب چاہے خالی کرالی جائے ‘ جبکہ دکانداروں نے مزید الزام لگایا کہ انسداد تجاوزات آپریشن اور توڑ پھوڑکی آڑ میں کے ایم سی اہلکاردکانوں کے سامان پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہے اور کئی دکانداروں کی قیمتی الیکٹرانک اشیا ء کے ایم سی اہلکار اٹھا کرلے گئے ہیں‘ دکانداروں کا کہنا تھا کہ کے ایم سی اہلکاروں نے کھل کرہمارے مال پر ہاتھ صاف کیاہے اور قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے ‘ جن دکانداروں نے لوٹ مار پر احتجاج کیا‘ ان پر تشدد کیاگیااور گرفتاری کی دھمکیاں بھی دی گئیں‘ اس معاملے میں دکانداروں نے قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد اس معاملے کا مقدمہ درج کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ جبکہ ایمپریس مارکیٹ اور اس کے اطراف مسمار کی گئی دکانوں کا اسکریپ دن بھر منشیات کے عادی افراد اور کباڑیوں کی جانب سے جمع کرنے کا بھی سلسلہ جاری رہا‘ مشاہدے میں آیا کہ دکانوں کی مسماری کے دوران نکلنے والے اسکریپ میں دکانوں کے شٹر ‘ پنکھے ‘ فرنیچر‘ ٹین کی چھتیں‘ اے سی ‘ بجلی کی تاریں ‘ پنجرے دکانوں میں موجود کپڑے ودیگر سامان شامل تھا‘جس پر دن بھر وہاں موجود مختلف لوگوں کی جانب سے ہاتھ صاف کیا جاتا رہا‘ جبکہ کباڑیوں کا کرنے والے کچرا چننے والے افراد کے علاوہ وہاں آئے دیگر شہریوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔

سپریم کورٹ کے احکام پر صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف قائم غیرقانونی مارکیٹوں کے خلاف کئے جانے والے آپریشن کے بعد ڈائریکٹر انسداد تجاوزات بشیر صدیقی کی سربراہی میں صدر جہانگیر پارک سے متصل گلی میں فٹ پاتھ پر قائم 140 دکانیں بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کردی گئیں۔مسمار کی جانے والی دکانیں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ملکیت ہیں اور تمام کی تمام دکانیں گلی میں فٹ پاتھ پر قائم تھیں اور تمام دکانیں غیرقانونی تھیں۔کے ایم سی کے ریکارڈ کے مطابق ایمپریس مارکیٹ کے اطراف 1 ہزار 44 دکانیں قائم تھیں لیکن جب انسداد تجاوزات کے عملے نے دکانیں مسمار کرنا شروع کیں تو معلوم ہوا کہ دکانوں کی تعداد 1600 سے 1700 ہے‘ دکانوں کے اوپر دکانیں بنائی گئی تھیں‘ ہم نے 1 ہزار 44 دکانیں مکمل مسمار کردی ہیں جبکہ اضافی بنائی جانے والی دکانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ آپریشن کے دوران جمع ہونے والا ملبہ اُٹھانے کا کام سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ حکام کے سپرد کیا گیا ہے اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ حکام کا کہنا ہے وہ شام کے اوقات میں ملبہ اُٹھانے کے لئے اپنی مشینری بھیجیں گے اور امید ہے کہ 2 سے 3 دن میں ملبہ اٹھانے کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔
ایمپریس مارکیٹ کے اطراف تجاوزات ہٹانے کا 90 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے، تاریخی عمارت کے احاطے میں قائم پختہ دکانوں کو بھی خالی کرالیا گیا جبکہ راہداری میں قائم 280 کے قریب دکانوں کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں،کے ایم سی کے انسداد تجاوزات محکمہ نے پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں ایمپریس مارکیٹ کے اطراف قائم کنکریٹ کی پختہ تجاوزات کو بھاری مشینری سے مسمار کردیا جس کے بعد ایمپریس مارکیٹ کے اطراف ملبہ کے ڈھیر لگ گئے جنہیں ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔ میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن کی نگرانی میں ایمپریس مارکیٹ کو طویل عرصے بعد جدید اسنارکل کے ذریعے دھو دیا گیا، ڈاکٹر سیف الرحمن کے مطابق عمارت کو 70 سال پرانی اصل شکل میں لایا جائے گا،مارکیٹ کے چاروں اطراف پارک اور گارڈن قائم ہوں گے، عمارت کی نئے سرے سے تزئین و آرائش ہوگی۔
میئر کراچی وسیم اختر نے اتوار کو صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ صدر کی تمام اسٹریٹ اور فٹ پاتھوں پر سے تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے‘ دکان کے اوپر صرف دکان کا بورڈ ہونا چاہئے اور بورڈ کا سائز 12 انچ دکان سے باہر ہوسکتا ہے‘ ہم نے تمام غیرقانونی شیڈز توڑے ہیں اگر کسی کا بورڈ ٹوٹا ہے وہ تو غلطی سے ٹوٹا ہے اور ہم نے جان کر یہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران کچھ دکانوں کے جائز بورڈ ٹوٹے ہیں جس کے لئے وہ معذرت خواہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر صدر ایمپریس مارکیٹ کا پرانا نقشہ دیکھا جائے تو صدر ایمپریس مارکیٹ کے چاروں اطراف پارکس ہیں اور اب ہم پارکس بنائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی نے جو دکانیں کرائے پر دی تھیں کے معاہدے ختم کردیئے گئے ہیں اور اس کے بعد انہیں ہٹایا گیا ہے‘ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں جو لوگ متاثر ہوئے ہیں‘ دکانداروں کی فہرست مرتب کریں گے اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ کمیٹی شفاف انداز میں اس پر کام کرے گی اور کے ایم سی کی مختلف اضلاع میں دکانیں موجود ہیں جہاں انہیں جگہ فراہم کی جائے گی۔ ہماری یہ نیت نہیں کہ کسی کے کاروبار کو ختم کردیں‘ صرف غیرقانونی تجاوزات ہٹائی گئی ہیں جو ایک اچھا فیصلہ ہے‘ تجاوزات کے خاتمے کے بعد صدر میں عمارات کی شکل نظر آرہی ہیں یہ عمارتیں ہماری قومی ورثہ ہیں۔

(323 بار دیکھا گیا)

تبصرے