Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کے75فیصد سے زائد ہوٹل اور ریسٹورنٹس معیاری نہیں

قومی نیوز پیر 12 نومبر 2018
کراچی کے75فیصد سے زائد ہوٹل اور ریسٹورنٹس معیاری نہیں

کراچی۔۔۔۔۔۔کراچی کے75فیصد سے زائد ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں حفظان صحت اصولوں اور صفائی ستھرائی کا کوئی تصور نہیں جبکہ شعبے پر نگرانی کرنے والے ادارے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا وجود صرف دستاویزات پر موجود ہے، ضلع جنوبی کے علاقے کلفٹن‘ ڈیفنس‘ صدر، اولڈ سٹی ایریا کے علاقوں سے ہوٹلوں پر ملازمین کا کہنا تھا وہ بالکل اسی طرح کام کرنے پر مجبور ہیں جس طرح مالکان حکم دیتے ہیں‘ پانی‘ گوشت‘ مصالحے اور دیگر اشیاء سمیت تمام کی تمام بغیر کسی چیکنگ کے استعمال ہوتی ہیں ‘جبکہ گوشت اور دیگر محلول مصالحے کئی کئی دن تک فریج میں پڑے رہتے ہیں مگر انہیں استعمال کیا جاتا ہے‘ بڑے ہوٹلوں کے ملازمین کا کہنا تھا کہ پولیس سمیت کئی سرکاری افسران ان سے مفت کھانا لے جاتے ہیں جس کے بدلے وہ حفظان صحت کے اصولوں کیلئے چیکنگ سے گریز کرتے ہیں، جناح اسپتال کے پبلک ہیلتھ افسر ڈاکٹر یحییٰ کا کہنا تھا کہ زہر خورانی کے جتنے بھی مریض آتے ہیں‘ لواحقین کی مجموعی توجہ صرف مریض کی بہتری کی طرف ہوتی ہے ‘آج تک کسی خوردنی چیز یا ہوٹل کے ملازم یا مالک سے تفتیش نہیں کی گئی کھڈا مارکیٹ ڈیفنس فیز 5کے ایک ریسٹورنٹ کے ملازم نے بتا یا کہ ہوٹل کے دو رخ ہیں ایک چمکتا دہمکتا رخ بیرونی ہوتا ہے جہا ں گاہک مہنگی ترین اشیاء خریدتے ہیں ‘جبکہ دوسرا رخ کچن اوراس سے ملحقہ کمروں کا ہے‘ جہاں اگر کوئی ایک مرتبہ چلاجائے تو وہاں کھانا کھانا پسند نہیں کرتا‘جناح اسپتال کے ایک اور ڈاکٹر کے مطابق محکمہ صحت کے افسران نے کبھی اسپتال آکر کسی زہر خورانی کے مریض پر تفتیش نہیں کی اس طرح یہ محکمہ صرف دستاویزات تک محدود ہے اور خاصا غیرمعروف ہے اس سلسلے میں سیکرٹری صحت سے کئی مرتبہ رابطہ کیا مگر ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

(348 بار دیکھا گیا)

تبصرے