Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 22 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

نام بڑے ‘درشن چھوٹے‘ڈیفنس کے ریسٹورنٹ نے دو معصوم بھائیوں کی جان لے لی

رائو عمران پیر 12 نومبر 2018
نام بڑے ‘درشن چھوٹے‘ڈیفنس کے ریسٹورنٹ نے دو معصوم بھائیوں کی جان لے لی

کراچی۔۔۔۔۔۔ ڈیفنس زمزمہ اسٹریٹ پر واقع ریسٹورنٹ سے باسی کھانا کھانے سے 2معصوم سگے بھائی ہلاک ہوگئے‘ جبکہ ماں کی حالت تشویشناک ہے‘ پولیس نے پارک اور ریسٹورنٹ کو سیل کردیا‘ شہر بھر میں ریسٹورنٹس کی انسپکشن کا حکم ‘ پولیس نے واقعہ کو خاندانی تنازعے کے پہلو پر بھی تفتیش کرتے ہوئے اہل خانہ سے تفتیش بھی شروع کردی‘ اطلاعات کے مطابق ڈیفنس سی ویو کے قریب واقع کریک وسٹا اپارٹمنٹس کے رہائشی معروف کاروباری شخصیت حاجی اسلم ڈونگر ا کے بیٹے بلڈر احسن کے 2 بیٹوں ڈیڑھ سالہ احمد اور 5سالہ محمد اور اس کی ماں عائشہ کو کلفٹن میں واقع سائوتھ سٹی اسپتال پہنچایاگیا‘ جہاں دونوں بچوں نے دم توڑ دیا‘ اس کی والدہ عائشہ کی جان بچانے میں ڈاکٹر کامیاب ہوگئے‘ بچوں کی والدہ عائشہ نے بتایا کہ وہ بچوں کے ہمراہ ہفتے کی شب زمزمہ اسٹریٹ پر واقع ایری زونا ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے واپسی پر بچے ڈیفنس فیز 4 میں نثار شہید پارک میں چنکی منکی ‘ پلے لینڈ گئے و ہاں سے بچوں نے کینڈی فلاوس (گڑیا کے بال) ٹافیاں خریدیں ‘ بچے رات کو گھر گئے تو 2 بجے بچوں نے پیٹ میں درد کی شکایت کی ‘ لیکن بچے پانی پی کر سو گئے‘ صبح 6 بجے دوبارہ طبیعت بگڑنے لگی اور بچوں کو الٹی ہونا شروع ہوگئیں اور دوپہر کو حالت خراب ہوگئی تو بچوں کا تایا اور اس کا ماموں بچوں کو لے کر سائوتھ سٹی اسپتال پہنچ گئے‘ سند ھ فوڈ اتھارٹی نے ریسٹورنٹ کا معائنہ کیاتو معلوم ہوا کہ ریسٹورنٹ کے فریزر میں 2 دن کا باسی کھانا موجود ہے‘ جووہ گاہکوں کو دے رہے تھے‘ سندھ فوڈ اتھارٹی نے ریسٹورنٹ سے 12 کھانوں کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے ‘ جبکہ نثار شہید پارک کے قریب واقع دکان سے بھی کھانے کے نمونے لئے گئے‘جبکہ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے متوفی بچوں کے گھر کا معائنہ بھی کیا‘ فریج میں رکھے ہوئے جوس کے ڈبے جو کھلے ہوئے تھے‘ اور بچوں کے بیڈ روم میں رکھی ڈبل روٹی ودیگر اشیاء کے نمونے حاصل کرلئے‘ پولیس کے مطابق بچوں کی موت کی وجہ معلوم ہونے کے بعد کارروائی ہوگی‘ تفتیشی حکام نے بتایا کہ واقعہ خاندانی تنازع بھی ہوسکتا ہے‘واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ نے ایس ایس پی سائوتھ پیر محمد شاہ ایس ایس پی سائوتھ انویسٹی گیشن طارق دھاریجو اور ایس پی کلفٹن عزیزسوہانی پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔

چھوٹے بچے کا چہرہ نیلا ‘ موت کی وجہ فوڈپوائزن ہوسکتی ہے‘ڈاکٹر

کراچی۔۔۔۔۔ڈیفنس میں زمزمہ اسٹریٹ کے ہوٹل سے ڈنر کے بعد ہلاک ہونے والے سگے بھائیوں ڈیڑھ سالہ احمد اور 5 سالہ محمد ولد احسن کی نعشوں کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں ایم ایل او ڈاکٹر شیراز کی نگرانی میں کیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق پوسٹ مارٹم بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا گیا ہے‘ بچوں کے معدے سے اجزاء و دیگر جسمانی اعضاء محفوظ کرکے کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ کے لئے بھجوائے گئے ہیں۔ رپورٹ آنے کے بعد موت کی وجہ معلوم ہوگی‘ چھوٹے بچے کا چہرہ نیلا تھا‘ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ موت کی وجہ فوڈپوائزن ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سائوتھ سٹی اسپتال کے ڈاکٹر عالمگیر احمد نے بتایا کہ دوپہر 2 بج کر 45 منٹ پر فیملی اسپتال لائی‘ دونوں بچے انتقال کرچکے تھے جبکہ والدہ کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹر عالمگیر احمد نے کہا کہ اسپتال آنے سے قبل ہی چھوٹا بچہ دم توڑ چکا تھا‘ بڑا بیٹا بھی جانبر نہ ہوسکا تھا‘ انہوں نے کہا کہ بچوں کو صبح سے اُلٹیاں ہورہی تھیں‘ چھوٹے بیٹے کی موت ساڑھے 3 جبکہ بڑے کی 4 بجے ہوئی۔

ریسٹورنٹ نے صحت وصفائی بہتربنانے کا نوٹس نظر انداز کردیا تھا

کراچی ۔۔۔۔۔کراچی کے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے والے بچوں کی ہلاکت سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کوپیش کردی گئی، وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی بھرکے تمام ریسٹورنٹس کوچیک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ڈائریکٹرسندھ فوڈ اتھارٹی ابرار شیخ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کوپیش کی گئی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کچھ روزقبل متعلقہ ریسٹورنٹ کو صحت وصفائی کی صورتحال بہتربنانے کا نوٹس دیا گیا تھا جو نظر انداز کردیا گیا،وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کوبتایا گیا ہے کہ بچوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ ریسٹورنٹس سے بارہ فوڈ سیمپل حاصل کرلیے گئے ہیں جولیب ٹیسٹ کے لیے بھجوادیے گئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ فیملی ڈیفنس کے ایک پارک بھی گئی تھی جہاں سے بچوں نے ٹافیاں خریدی تھیں‘ فوڈ اتھارٹی نے پارک کی دکان سے ٹافیوں کا سیمپل بھی حاصل کرلیا ہے جبکہ ریسٹورنٹ کوسیل کردیا گیا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے ڈیفنس پارک کی شام 4 بجے سے بند ہونے کے وقت تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈائریکٹرسندھ فوڈ اتھارٹی اورمتعلقہ اداروں کوتحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے لمحہ بہ لمحہ انہیں آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

3 افراد کو حراست میں لیا ہے‘ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ

کراچی۔۔۔۔۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت افسوسناک واقعہ ہے، ہر پہلو سے تفتیش کر رہے ہیں ہلاک بچوں کی والدہ سے ملا ہوں‘ متاثرہ خاندان نے ایروزونا گرل سے کھانا کھایا تھارات دو بجے گھر پہنچے ، صبح 6بجے حالت غیر ہوئی جس ریسٹورینٹ سے کھانا کھایا وہاں سے نمونے بھی لے‘ٹیسٹ رپورٹ کے لئے آغا خان اسپتال بھیجی ہیں‘ انہوں نے کہا کہ بچوں کے گھر میں فریج سے بھی نمونے لئے ہیں‘ ضروری نہیں کہ بچے ریسٹورنٹ کے کھانے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ز ہر خورانی کے پہلو پر بھی تفتیش کر رہے ہیں‘ 3 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘اس بارے میں میڈیکل بورڈ بھی بننا چاہیے‘ آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے کلفٹن میں واقع نجی اسپتال میں 2کمسن بچوں کے فوڈ پوائزننگ سے جاں بحق ہونے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ سے تفصیلی انکوائری اور اٹھائے گئے پولیس اقدامات پر مشتمل رپورٹ فی الفور طلب کرلی ہے۔

مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا‘ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مل گئی

کراچی۔۔۔۔۔ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے ریسٹورنٹ کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا‘ تاہم واقعہ کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا تھااور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی‘متاثرہ خاندان سے بھی تفتیش کی جارہی ہے‘تفتیشی حکام کہتے ہیں کہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے‘ متاثرہ خاتون کو ان کے ماموں اور دیور اسپتال لے کر آئے تھے۔انکا کہنا تھا کہ خاتون چند روز قبل بچوں کے ساتھ سسرال آئی تھی‘ کیوں کہ متاثرہ خاندان کے اپنے گھرمیں مرمت کا کام چل رہا ہے‘ خاتون کے شوہر کا لاہور میں تعمیرات کا کام ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ اہل خانہ کے گھر کا بھی انویسٹی گیشن ٹیم نے معائنہ کیا اور گھر کے اندر بھی کھانے کی بیشترچیزیں موجود تھیں‘ حکام نے گھر میں موجود اشیاء کے بھی نمونے لیے گئے ہیں۔تفتیشی حکام کہتے ہیں کہ متاثرہ خاتون کے شوہر‘ ماموں اور دیور سے تفتیش جارہی ہے، گھر میں خاندان کے 5 افراد موجود ہیں‘ تمام کے بیانات لیے گئے ہیں۔جس میں 2 نوکر‘ خالہ ‘ ماموں اور دیور موجود ہیں‘ ان کا بیان قلمبند کرلیا۔

(343 بار دیکھا گیا)

تبصرے