Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

طرز عمل

(سید ذیشان حفیظ(ذرا سوچیئے جمعه 09 نومبر 2018
طرز عمل

تخلیق کائنات کی اس اہتمام سے
فضاء مہک رہی ہے، محمدؐ کے نام سے
برطانوی قد آور شخصیت جارج برنارڈ شاہ نے کہا تھا کہ اگر کوئی مذہب آئندہ سوسال میں یورپ پر حکومت کرسکتا ہے تو وہ بلا شبہ اسلام ہے
شعور آدمیت ناز کر اس ذات اقد س پر
تیری عظمت کا باعث ہے محمد ؐ کا بشر ہونا
بلاشبہ رحمت اللعالمین (ﷺ) امن عالم کے سب سے بڑے علم بردار ہیں آپ ﷺ کی بنیادی تعلیم یہ تھی کہ انسان کا احترام اس کے انسان ہونے کی وجہ سے کیا جائے پھر چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت سے ہو لیکن افسوس کہ باطل نے ایسی خوب صورت تعلیمات فراہم کرنے والے نبی کریمﷺ کی تعظیم نہ کی، کبھی گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ تو کبھی گستاخانہ فلم ۔۔۔!
سوال یہ ہے کہ غیر مسلموں کیلئے کیونکر یہ اتنا آسان ہوگیا کہ نبی کریمﷺ کی شان میں بار بار گستاخی کریں۔۔؟ میرے نزدیک تو دور حاضر کے مسلمانوں کا کردار اور دین سے ان کی بے رغبتی اس آسانی کا سب سے اہم جزو ہے مسلمانوںنے دامن مصطفیﷺ کو مضبوطی سے تھامنے کے بجائے دست اغیار تھام رکھا ہے، بار بار رسالت مآب ﷺ میں گستاخی سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اس کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں۔
خود ہی ہو باعث شرمندگی تم اپنے لیئے
نہ تم ہوتے، نہ یوں کرتے، نہ یہ گستاخیاں ہوتیں
مسلمہ طور پر نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ تمام عالم انسانیت کے سب سے بہترین عملی پکر ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس جاوداں حقیقت کو بھی فراموش کرکے مغربی طرز زندگی کو اپنا نصب العین بنالیا ہے۔
مثال ماہ چمکتا تھا جن کا داغ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی
اگر ہم تعلیمات نبویﷺ اور دور حاضر کے مسلمانوں کے کردار و اطوار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ جس معاشرے کا ہم حصہ ہیں وہاں نبی محترمﷺ کا نام محض ایک ڈھال کے طور پر استعمال ہورہا ہے، ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں قرآنی تعلیم حاصل کی جاتی ہے وہ فقط ایک قدیم روایت سمجھ کر جبکہ انگریزی اور دیگر دنیاوی تعلیم حاصل کی جاتی ہے، ذریعہ نجات سمجھ کر جہاں دختر کو معلمہ بنایا جائے تو لوگ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ بنت حوا کو سر محفل نچانا باعث فخر سمجھا جاتا ہے، جہاں حجاب کرنا باعث شرم اور بے ہودہ ملبوسات کی نمائش کو باعث تکریم تصور کیا جاتا ہے، جہاں مجرم کو رشوت دے رہا کروالیا جاتا ہے جبکہ بے قصور کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے تو کوئی بات نہیں، جہاں اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھ کر (Old home) چھوڑ آتے ہیں ہمیں جہاں A for Apple اور B for Bat تو سکھایا جاتا ہے لیکن الف سے اللہ، (اطاعت اللہ اور اتباع رسولﷺ ) ب سے (بسم اللہ ) پ سے( پاکیزگی نفس) اور ت سے (توحید اور توبہ) کا سبق سکھانے پر کسی کی کوئی توجہ نہیں، جس معاشرے میں انصاف ، اخوت، بھائی چارہ، برداشت اور مساوات کے تصورات دم توڑ چکے ہوں جہاں ٹی وی اداکاروں کی نقل کرنیوالوں کی تعظیم اور سنت رسول ﷺ کی اتباع کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہو وہاں ہم کس حق سے عاشق رسولﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟
آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دنیا کی لذتوں کی خاطر خدا اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو فراموش کر چکے ہیں ہم عشق رسولﷺ کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اتباع رسولﷺ ہمیں گوارا نہیں، گروہ بندی اور اختلافات سے امت مسلمہ بے وزن ہو کر رہ گئی ہے، بات اگر چہ کڑوی اور باعث شرم ہے مگر حقیقت ہے کہ ہم نے شیعہ ، سنی ، وہابی، دیوبندی، اور اہل حدیث وغیرہ کے ٹیکے اپنے ماتھے پر سجا رکھے ہیں اور ایک دوسرے کو کافر کافر کہنے کی رسم قائم کر رکھی ہے جبکہ صرف کفار ہیں جو ہم سب کو مسلمان کہتے ہیں، آج ہمارے دلوں میں نور ایمانی اور صفوں میں اتحاد و اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ہی کفار اور مشرکین کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، نبی کریمﷺ کی سیرت مبارکہ سے جب ہر طبقہ کا ہرفرد ہدایت پاسکتا ہے تو مسلمان کیوں نہیں؟ کاش!مسلمان نبی کریمﷺ کے مقدس و پاکیزہ مقصد سے آگاہی حاصل کریں ، کاش دین اسلام کی تبلیغ اس کی بقاء و دوام کو اپنا اولین فریضہ سمجھیں تاکہ آئندہ کوئی ملعون شخص ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی جرأت نہ کرسکے، ہمیں آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو’’ دستک‘‘ دیں اور اس بات کا احساس دلائیں کہ دین حق کی مضبوطی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ
حسن کردار سے قرآن مجسم ہوجا
تجھ کو ابلیس بھی دیکھے تو مسلمان ہو جائے

(323 بار دیکھا گیا)

تبصرے