Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

فائزہ اقبال بدھ 07 نومبر 2018

کچھ لوگوں کو پرفیوم استعمال کرنے کا خبط ہوتا ہے خود کو دلفریب خوشبوﺅں میں اس قدر بسا لینا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک سے گزرنے والے ان کی شخصیت کا مسحور کن وخوشگوار تاثر محسوس کر سکیں مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خوشبوﺅں میں بسے ان افراد کے پاس سے گزرنے پر ناک بند کرنے کو جی چاہتا ہے اور سانس روک کر اپنے چکراتے ہوئے سرکو قابو میں رکھنے کی تگ ودو کی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اپنے آپ یقینا اس کیٹگری سے دور رکھنا چاہتی ہوں گی جس کے قریب سے گزرنے والوں کو سر چکرانے اور جی متلانے لگتا ہے۔ یعنی آپ اپنے سراپے کو ایسی مسحور کو خوشبوﺅں میں بسانا چاہتی ہوں گی کہ آپ کے قریب رہنے والے لوگوں کو آپ کے وجود سے اٹھتی تیز مہک سے بچنے کے لئے ماﺅتھ ماسک لگانے کی ضرورت نہ پڑجائے۔ پرفیوم کا استعمال اگر صحیح انداز میں موزوں طریقوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو یہ خوشبو آپ کی شخصیت کی دلکشی میں بہترین اضافے کا باعث بنتی ہے۔ زیر نظر مضمون میں اسی حوالے سے مفید وکار آمد باتیں بیان کی جا رہی ہیں جنہیں پرفیوم یا کلون استعمال کرتے ہوئے اگر آپ ذہن میں رکھیں تو یہ آپ کے لئے بہت سودمند ثابت ہوں گی۔
خوشبو چاہے کسی بھی حالت میں موجود ہو ہمیشہ کوشش کریں اسے کپڑے وجیولری وغیرہ پہننے سے پہلے استعمال کریں کیونکہ بعض اقسام کے پرفیوم، عطریات، ڈیوڈز اور باڈی اسپرے کپڑوں، دھاتی زیورات اور موتی وغیرہ کی سطح پر نہ مٹنے والے نشانات چھوڑ دیا کرتے ہیں۔
پرفیوم لگاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ اسے اپنے جسم کے نبضی حصوں یا پلس پوائنٹ پر لگائیں جیسے کہ کلائی کی پشت پر، تھوڑی کے نچلے حصوں پر، کان کی لوﺅں کے پیچھے اور گلے وسینے کے اطرافی حصوں پر وغیرہ وغیرہ۔ پرفیوم لگانے کے بعد دونوں ہاتھوں کی کلائیوں کو آپس میں رگڑنے سے بھی گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے خوشبو کا آہنگ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس بات سے شاید ہی کوئی بے خبر ہوکہ پر فیوم کی مہک اس وقت اور زیادہ نکھرتی ہے۔ جب اسے جسم کے ان حصوں پر لگایا جائے جہاں کا دوران خون تیز ہو، جلد کی سطح باریک ہو اسی لیے اپنے پرفیوم کا اثر پذیری میں اضافہ کرنے کے لئے اسے گردن وکان، گھٹنوں و کہنیوں کے پشت پر بھی لگانا نہ بھولیں۔
آج کل مارکیٹ میں بہترین شمیپو اور کنڈیشنرز بھی آگئے ہیں جن کی خوشبو بلاشبہ بہت بہترین ہوا کرتی ہے لیکن بالوں کو دھونے کے بعد یہ بالوں میں موجود نہیں رہا کرتی اس لئے اگر آپ اپنی زلفوں کو بھی خوشبودار رکھنا چاہتی ہیں تواپنے د±ھلے بالوں میں بھی آپ اسپرے کر سکتی ہیں لیکن خیال رہے آپ کے بالوں او ر اسپرے نوزل کے درمیان کم از کم 8 انچ کا فاصلہ ضروری ہونا چاہیے۔ بغیر دھلے ہوئے بالوں پر اسپرے کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ بالوں میں تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے دھلے ہوئے بالوں میں خوشبو پیدا کرنے کے لئے کبھی بھی پرفیوم کا اسپرے اپنے برش یا ہیئر کامب پر مت کیجئے بلک مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے بالوں پہ ہی براہ راست اسپرے کریں کیونکہ ہیئر کامب یا برش پر برفیوم لگانے سے خوشبو اس کی سطح پر چپکی رہ سکتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے استعمال کرنے پر یہ آپ کے بالوں پر ناخوشگوار تاثر چھوڑ سکتی ہے۔ بہت سے سنگھاری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب افراد کی جلدی رنگت گوری اور اس کی ساخت خشک ہوتی ہے ان کے جسم پرلگایا جانے والا پرفیوم جلد ہی اپنی اثر پذیری کھو بیٹھتا ہے جبکہ روغنی ساختہ جلد کے مالک سانو لے سلونے افراد فیوم کی مہک کو زیادہ دیر تک اپنے سراپے میں قید کیے رہتے ہیں۔ اس لئے گوری رنگت کے حامل افراد اپنے سراپے کو نہ صرف صبح گھر سے نکلتے ہوئے پرفیوم کے محض ایک یا دو اسپرے کے ذریعے مہکانے کی کوشش کریں بلکہ دوپہر کے وقت پرفیوم کے 1-2 اسپرے سے اسے تازہ دم کرلیں۔ بوٹی ایکسپرٹس ایسے لوگوں کو لیئرز یا تہوں کی صورت میں بھی خوشبو استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

(156 بار دیکھا گیا)

تبصرے