Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 10 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قومی میگزین منگل 06 نومبر 2018

چین میں ایک کروڑ پتی بھکارن کے چرچے اس وقت زبان زد عام ہیں جو 5 منزلہ عمارت‘کئی اسٹور‘ دکانوں اور جائیداد کی مالکن ہونے کے باوجود بھیک مانگتی نظرآتی ہے۔ 79 سالہ بھکارن کو ہینگ زو ریلوے اسٹیشن پر دیکھا جاسکتا ہے جو ایک محل نما عمارت کی مالکن ہیں۔ ریلوے اسٹیشن کی انتظامیہ نے حقیقت معلوم ہونے کے بعد اپنے لاو¿ڈ اسپیکر پر مسافروں کو خبردار کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ اس خاتون کی باتوں میں آکر اس کی کوئی مدد نہ کریں کیونکہ وہ جیسی دکھائی دیتی ہے ویسی ہے نہیں۔ خاتون کے بیٹے نے بتایا کہ وہ عام چینی خاندان سے بہت بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ وہ 5 منزلہ کوٹھی نما گھر میں رہتے ہیں اور کئی کاروبار اور جائیدادوں کے مالک ہیں‘ وہ کئی مرتبہ اپنی ماں کو گداگری سے روک چکے ہیں لیکن وہ نہیں مانتیں۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ صبح انہیں بہترین ناشتہ پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ضد کرکے بھیک مانگنے کے لیے باہر نکل جاتی ہیں۔ آج بھی وہ کئی بینک اکاو¿نٹس کی مالک ہیں اور ان کے پاس خاصی رقم موجود ہے۔ پہلے خاتون نے ریلوے اسٹیشن پر سیاحتی نقشے فروخت کرنا شروع کیے تھے لیکن بعد میں انہوں نے بھیک مانگنا شروع کردی۔ اب ہر روز وہ صبح10بجے آتی ہیں اور شام کو 8 بجے گھر لوٹتی ہیں اور روزانہ 300 یوآن کی بھیک جمع کرلیتی ہیں۔خاتون کے بیٹوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اپنی والدہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ انہیں بھیک نہ دیں جس سے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ریلوے اسٹیشن انتظامیہ سے کہا کہ وہ روز اعلان کریں کہ اس خاتون کوبھیک نہ دی جائے۔خاتون نے شکایت کی ہے کہ وقت گزارنے کے لیے وہ شوقیہ بھیک مانگتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بیٹے اسے وقت نہیں دیتے اور وہ گھر میں رہتے ہوئے اکتاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ چین میں ایک کروڑ پتی ممتاز شخصیت اکثر سڑکوں پر کوڑا کرکٹ جمع کرتے دکھائی دیتی ہے۔ اس شخص کا نام زونگ کونگرونگ ہے جو چین کے شہر چونگ قنگ کے کامیاب تاجر بھی ہیں۔ اس شخص نے ایک چینی خاتون پروفیسر کو ساحل پر کچرا اٹھاتے ہوئے دیکھا اور اس سے متاثر ہوکر اس نے بھی سڑکوں سے کوڑا اٹھانا شروع کردیا۔52 سالہ زونگ ہر روز اپنے اطراف کی سڑکوں پر کچرا تھامنے والے خاص شکنجے سے کوڑا اٹھاتے نظر آتے ہیں اور یہ سلسلہ 3 سال سے جاری ہے۔تاہم زونگ کے اس عمل پر شدید تنقید بھی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر زونگ کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے کہا ہے کہ وہ دولت مند ہیں اور رئیل اسٹیٹ کاروبار کے بادشاہ ہیں لیکن ان کے اس عمل کا مقصد صرف شہرت اور توجہ حاصل کرنا ہے۔ زونگ نے اس تنقید کی پرواہ نہیں کی اورجب بھی انہیں وقت ملتا ہے وہ کچرا اٹھانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔پہلے پہل زونگ کے گھروالے بھی ان کے اس عمل پر شرمندہ تھے لیکن دھیرے دھیرے وہ اس کے عادی ہوگئے۔ لیکن اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگ شرمندہ ہونے لگے اور باہر کوڑا پھینکنا بند کردیا اور اب زونگ کی بیوی بھی ان کے مشن میں آگے آگے ہیں۔زونگ کہتے ہیں کہ چینی عوام کوڑا کرکٹ پھیلاتے ہیں اور اس ضمن میں سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ زونگ نے اپنے ادارے میں بھی کچرا پھیلانے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دنیا بھر سے لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں متحدہ عرب امارات ملازمت کے غرض سے آتے ہیں۔ اس ملک میں جہاں عام افراد کو پیسے کمانے کے بہترین مواقع میسر ہیں وہیں بھکاری بھی کسی سے پیچھے نہیں۔دبئی کی ایک مسجد کے قریب ایک خاتون کو بھیک مانگتے پایا گیا جو اپنی لینڈ کروزر کو تھوڑی پہلے ہی پارک کرکے اتری تھی۔اس کے علاوہ ایک ایشیائی بھکاری کو 70 ہزار درہم کے ساتھ پایا گیا۔ اس بھکاری نے یہ رقم اپنے ساتھیوں کی جانب سے چوری کیے جانے کے ڈر سے اپنے پاس ہی رکھ لی تھی۔گزشتہ 5 سالوں کے دوران دبئی پولیس نے 4316 ایسے بھکاریوں کو گرفتار کیا جن کے پاس بڑی مقدار میں رقم پائی گئی۔بھیک مانگنا دبئی میں غیر قانونی ہے تاہم اس کے باوجود گزشتہ کئی سالوں کے دوران اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔شہر کے سینئر پولیس افسر خلیل المنصوری کے مطابق بھیک مانگنے کا رجحان تیزی سے اوپر جارہا ہے اور بہت سے بھکاری بہترین کپڑے پہنتے ہیں تاکہ وہ دیگر افراد کی طرح لگ سکیں‘انہوں نے بتایا کہ بہت سی بھکاری خوبصورت لڑکیاں ہوتی ہیں جو مردوں کو ہدف بناتی ہیں۔ دبئی میں پولیس نے ایک کروڑ پتی بھکاری کو گرفتار کیا ہے جس کی ماہانہ آمدنی جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ بھکاری ماہانہ 2لاکھ 70ہزار درہم(تقریباً76لاکھ 95ہزار روپے) کما رہا تھا۔ دبئی میونسپلٹی مارکیٹس سیکشن کے سربراہ فیصل البدیوی کا کہنا تھا کہ ”2016ءکے پہلے 3 ماہ میں 59بھکاری گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ بھکاریوں سے پاسپورٹ برآمد ہوئے ہیں جن پر کاروباری اور سیاحتی ویزے لگے ہوئے تھے۔ ان بھکاریوں میں سے اکثر قانونی طور پر سیاحتی ویزے پرتین ماہ کے لیے ملک میں داخل ہوئے اور ان 3 ماہ میں زیادہ سے زیادہ رقم کمانے کے لیے بھکاری بن گئے۔ان میں ایک بھکاری ایسا بھی ہے جو ماہانہ 2لاکھ 70ہزار درہم کما رہا تھا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی روزانہ کی کمائی 9ہزار درہم سے زیادہ تھی۔یہ بھکاری جمعة المبارک کے روز مساجد کے باہر کھڑے ہو کر زیادہ رقم حاصل کرتے تھے۔“ بھکاری مفلسی اور بیچارگی کا بہروپ بھر کر خوب دولت کماتے ہیں اور اکثر اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگوں سے بھی زیادہ دولت مند ہوجاتے ہیں۔ امیر کبیر بھکاریوں سے متعلق آپ نے کافی کہانیاں سنیں ہوں گی لیکن بھارتی کروڑ پتی بھکاری پپو کمار کی کہانی کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق شاید یہ دنیا کا واحد بھکاری ہے کہ جس کی دولت کروڑوں میں ہے اور متعدد بینکوں میں اس کے اکاﺅنٹ ہیں اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھکاری تاجروں کو کسی بڑے بینک کی طرح کاروباری قرضے بھی دیتا ہے۔ اخبار کے مطابق پپو کمار کبھی ایک انجینئر ہوا کرتا تھا لیکن پھر ایک حادثے میں یہ ایک ٹانگ اور ہاتھ تڑوا بیٹھا۔ اگرچہ اس کے پاس وراثت میں ملنے والی کافی دولت تھی لیکن جب یہ معذور ہوگیا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی معذوری کو بھی کافی دولت اکٹھی کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے اور یوں گداگری کا آغاز کر دیا۔پپو کمار کی کروڑوں کی دولت کا انکشاف اس وقت ہوا جب انسداد گداگری مہم کے تحت اسے حراست میں لیا گیا اور اس کے قبضے سے 4 اے ٹی ایم کارڈ برآمد ہوئے‘ جن کی لمٹ 5لاکھ روپے تھی۔جب ان کارڈز کی تحقیقات کی گئیں تو پتا چلا کہ پپو کمار سوا کروڑ مالیت کی زمین کا مالک ہے اور لاکھوں روپے کے قرضہ جات کاروباری شخصیات کو جاری کرچکا ہے، جن پر ملنے والا سود اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس تمام جائیداد اور دولت کے باوجود وہ گداگری چھوڑنے کو ہرگز تیار نہیں‘ کیونکہ وہ اسے اپنی بے پناہ کامیابی اور ترقی کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے۔ کویت میں پولیس معمول کے مطابق گشت لگا رہی تھی کہ ایک غیرملکی شہری کو اس لیے گرفتار کر لیا گیا کہ وہ مسجد کے باہر نمازیوں سے بھیک مانگ رہا تھا۔ اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق بھکاری لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ تحقیقات کرنے پر پولیس کو پتہ لگا کہ اس کے بینک اکاو¿نٹ میں 5 لاکھ کویتی دینا ہیں جو پاکستانی 10کروڑ روپے بنتے ہیں۔ کویت کی طرح خلیج تعاون کونسل کے ممبر ملکوں بحرین‘عمان‘ قطر‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھیک مانگنے کی اجازت نہیں ہے۔مصر کے ایک بھکاری کامل کے ذاتی اکاو¿نٹ میں کم از کم 35لاکھ مصری پاو¿نڈ موجود ہیں‘ لیکن وہ مصر کی سڑکوں پر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے بھیک مانگتا ہے۔ بینک اکاو¿نٹ میں موجودخطیر دولت کے علاوہ وہ نہایت بیش قیمت دو کوٹھیوں کا بھی مالک ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق مصر کا یہ کروڑ پتی بھکاری صوبہ المنیا کے شہر بنی مزار شہر سے تعلق رکھتا ہے۔المنیا گورنری کے ایک مقامی مصری شہری محسن عبدالکریم جو کہ کامل کے بینک بیلنس اور دو پلازوں سے واقف ہیں، کا کہنا ہے کہ میں ایک روز بینک میں اپنے کسی کام سے گیا تو دیکھا کہ کامل بھی بینک کی ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہے۔ دریافت کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ بھکاری یہاں بھیک مانگنے نہیں بلکہ اپنے اکاو¿نٹ میں جمع رقم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے آتا ہے۔ بینک ملازم نے یہ بھی بتایا کہ کامل دن بھر کی کمائی کا ایک بڑا حصہ یہاں جمع کرا دیتا ہے۔ ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر ایک ایک روپیہ جمع کرنے والا بھکاری لکھ پتی نکلا۔ مظفر گڑھ کے رہائشی نے ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر اپنے بینک اکاو¿نٹ میں لاکھوں روپے جمع کر لیے ہیں۔شوکت بھکاری نامی شخص اردو، پنجابی اور انگریزی روانی سے بولتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شوکت بھیک مانگتے، مانگتے اب لکھ پتی بن چکا ہے جس کا اعتراف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اس نے خود کیا ہے۔ شوکت کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ میں روزانہ ملتان سے ایک ہزار روپے کماتا ہوں اور اس طرح مہینے میں 30 ہزار روپے آرام سے کما لیتا ہوں جب کہ یہ ساری رقم بینک اکاو¿نٹ میں جمع کراتا ہوں۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ آج کل کے دور میں ایک روپیہ کسی کی جیب میں کھلا نہیں ہوتا اسی لیے لوگ مجھے دس سے بیس روپے دے دیتے ہیں۔ شوکت نے بتایا کہ اس کے اکاو¿نٹ میں تقریباً 10 لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے جو کہ اس نے بچوں کے نام کر دی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سالانہ ہزاروں روپے بیمہ پالیسی کی مد میں بھی ادا کرتا ہے۔ شوکت کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ 84 ہزار روپے بیمہ پالیسی کی مد میں ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کھانا بھی مانگ کر کھاتا ہے جبکہ چار جگہ سے مانگتا ہے تو ایک سے کچھ نہ کچھ کھانے کو مل ہی جاتا ہے۔ شوکت بھکاری کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں نوکری کے لیے ایم این اے اور ایم پی اے کے پاس بھی گیا لیکن دھکے کھا، کھا کر اب سڑک کا بادشاہ بن گیا ہوں۔49 سالہ بھارت جین ممبئی کے علاقے پریل کا رہنے والا ہے اور یہی علاقہ ا±س کی کمائی کی جگہ بھی ہے۔ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھیلاتے آج بھارت جین کی جائیداد بھی کافی پھیل چکی ہے جس کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ گھر کے علاوہ ا±س نے ایک دکان بھی خریدی ہے جو ایک جوس سینٹر کو کرائے پر دے کر وہ 10ہزار روپے ماہانہ لے رہا ہے۔ بھارت جین اپنے پیشے (گداگری) سے بہت خوش اور مطمئن ہے اور کسی حال میں بھی اسے چھوڑنا نہیں چاہتا، کیوںکہ بہ قول اس کے بھیک مانگنے سے اسے عشق ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وہ ماہانہ 75ہزار روپے کمالیتا ہے۔مالدار فقیروں میں بھارت کا کرشنا کمار بھی کسی سے پیچھے نہیں، وہ روزانہ تقریباً 1500روپے کمالیتا ہے اور کبھی کبھی اس کی روزانہ کی آمدنی اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ممبئی میں اس کی بھاری مالیت کی حامل جائیداد ہے۔ کرشنا کمار کے تجارتی معاملات اس کا بھائی دیکھتا ہے۔ ہاتھ میں ڈنڈا لے کر ڈنڈے کے زور پر چل کر وہ خود کو معذور ظاہر کرکے لوگوں کی ہم دردیاں سمیٹنے اور ان کی جیبیں خالی کرنے کی بھرپور مشق کرتا ہے اور اس کی کوششیں رائیگاں بھی نہیں جاتیں۔برطانوی شہری کرسٹوفر اپنے کتے کے ساتھ لندن کی ایک سڑک کے کنارے بیٹھ کر بھیک مانگتا ہے۔ ا±س کے پاس مختلف قسم کے بورڈ ہیں جن پر ”میری امداد کرو“، ”مجھ پر ترس کھاو¿ “ اور ایسے دوسرے جملے لکھے ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ لندن میں جہاں وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، وہاں سے چند فرلانگ د±ور ا±س کا عالی شان فلیٹ ہے جو اس نے ”فنِ فقیری“ سے ہی خریدا ہے۔ایک اور فقیر تھامسن ہے۔ یہ برطانوی گداگر لندن کی سڑکوں اور گلیوں میں معذور ہونے کا ناٹک کرکے بھیک مانگتا دیکھا جاسکتا ہے لیکن ا±س کی ذاتی جائیداد کی مالیت لاکھوں میں ہے۔ کچھ عرصے قبل لندن پولیس نے اسے گرفتار کرلیا اور اس پر بھیک مانگنے کی پابندی لگادی کیوںکہ وہ فقیر نہیں رہا تھا۔ ہمارے ملک میں بھی گداگری ایک پیشہ بن اور کاروبار بن چکی ہے۔ یہاں بھی کراچی سے کشمیر تک ہر چھوٹے بڑے شہر میں فقیروں کے نیٹ ورک کام کرتے نظر آتے ہیں جن کے سرپرست کروڑ پتی نہیں تو لکھ پتی ضرور ہوں گے، ان کی جائیدادیں بھی ہیں اور وہ اپنا کاروبار چلانے کے لیے مجرمانہ ذہنیت کے افسران کو بھتہ بھی دیتے ہیں۔

(610 بار دیکھا گیا)

تبصرے