Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 10 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قومی میگزین منگل 06 نومبر 2018

غربت ہمارے ہاں خودکشیوں کا سب سے بڑا سبب ہے اور یہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں دنیا کے ہر حصے میں اسی طرح سے ہے بلکہ آج سے کوئی 20,25 سال قبل بھارت میں ڈیڑھ لاکھ چھوٹے کاشتکاروں نے سود خوروں سے تنگ آکر موت کو گلے لگایا۔ گلوبل جسٹس نیویارک یونیورسٹی نے بتایا کہ پاکستان میں غربت سے جڑی ہوئی خودکشیاں 1990ءکی دہائی میں تیزی سے بڑھنا شروع ہوئیں جو معاشی دباﺅ بے انتہا تھا۔ ہر پانچواں شخص ایک ڈالر یومیہ پر گزارا کررہا تھا۔ حکومت کے نزدیک اس کے اقدامات بہت دیرپا اور حقیقی تھے‘ ان کے اثرات برآمد ہونا تھے لیکن گزشتہ 25 سالوں سے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ 1990ءکے بعد سے پاکستان میں خودکشیوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے‘ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جب ایدھی فاﺅنڈیشن کو معصوم بچوں کی پرورش نہ کرنا پڑے۔ مائیں اپنے بچوں کو ایدھی سینٹرز کے حوالے کرکے خود کو موت کے حوالے کردیتی ہیں۔ پچھلے سال سبھی اس نتیجے پر پہنچے کہ کم از کم 3 سو لوگوں نے صرف ایک برس میں زندگی ہار دی‘ ہمت ٹوٹ گئی تو موت کو قبول کرلیا۔ پچھلے سال مرنے والوں میں مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں دگنی تھی۔ زیادہ تر غیر شادی شدہ خواتین نے خودکشی کی۔ خودکشی کرنے والے مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ تھی مگر ان کی اکثریت شادی شدہ تھی۔ غربت سے جنم لینے والے گھریلو تنازعات نے مردوں اور عورتوں میں ڈپریشن کو جنم دیا‘ ایک ایسا ڈپریشن جس کی دوا ابھی تک ایجاد نہیں مگر ہمارے لئے تو شاید بالکل ایجاد ہی نہیں ہوئی جہاں لوگ یہ سمجھ ہی نہی پاتے کہ ایک جوان لڑکی کی شادی کیا معنی رکھتی ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق مردوں میں خودکشی کا رجحان خواتین سے تین گناز یادہ ہے ۔ 75 فیصد مرد اور 25 فیصد عورتیں بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرتی ہیں‘ محبت میں ناکامی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ اس کے بعد مالی نقصانات ہیں‘ مالی نقصان کی وجہ سے 95 فیصد مرد اور 5 فیصد عورتیں خودکشی کرتی ہیں۔ 70 فیصد عورتوں کی خودکشیوں کے پیچھے طلاق کا داغ ہوتا ہے‘ ہمارے ہاں طلاق کو بڑی برائی سمجھا جاتا ہے‘ یہ کسی بھی عورت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہوتی ہے۔ طلاق کی وجہ سے جتنی بھی خودکشیاں ہوتی ہیں ان میں مرد 20 فیصد اور عورتیں 70 فیصد ہیں۔ نفسیاتی امراض بھی خودکشیوں کا ایک بڑا سبب ہیں‘ یہ تناسب مردوں اور عورتوں میں برابر ہے۔ جنوبی پنجاب میں کالا پتھر عام دستیاب ہے‘ 40 فیصد لوگ زہریلے پتھروں کی مدد سے خودکشی کرتے ہیں۔ مٹی کا تیل‘ نیلا تھوتھا دوسری وجوہات ہیں۔ 20 فیصد پھندا لے کر اور 7 فیصد زہر سے خودکشی کرتے ہیں‘ 10 فیصد اونچی جگہ سے چھلانگ لگاکر اور 7 فیصد اپنا گلاگھونٹ دیتے ہیں۔
ہماری حکومتوں نے 2011ءسے اعداد و شمار اکٹھا کرنا شروع کئے‘ 16 سو لوگوں نے بتایا کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لئے کوئی راستہ نہیں‘ واحد راستہ موت ہے جسے وہ قبول کرسکتے ہیں اور موت ہی ان کی زندگی کو آسان کرسکتی ہے اور 2011ءمیں تقریباً 24 سو مرد و خواتین نے موت کو قبول کیا۔ سب کے پیچھے غربت تھی‘ لاعلاج غربت جس کا کسی کے پاس کوئی حل نہیں اور حکومت کے پاس تو شاید بالکل ہی نہیں۔ ایک اور سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ کم از کم 3 لاکھ لوگ ہر دم موت کے رحم و کرم پر رہتے ہیں‘ کچھ سروے میں یہ تعداد سوا لاکھ بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹروں‘ ماہرین نفسیات اور یونیورسٹیوں سے رابطے کرنے سے پتہ چلا کہ پاکستان میں سوا لاکھ سے 3 لاکھ لوگ یا تو خودکشی کی کوشش کرچکے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ پروفیسر مراد موسیٰ خان نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا‘ انہوں نے یہ بہت اچھی خوشخبری بھی سنائی کہ ان لوگوں کو انتہائی آسانی کے ساتھ بچای اجاسکتا ہے جو کم از کم 90 فیصد لوگ خودکشی کے بعد کسی نہ کسی قسم کے ڈپریشن میں مبتلا تھے۔ حکومت مینٹل ہیلتھ اسٹرٹیجی کے ذریعے بچاسکتی تھی۔ موسیٰ خان نے اس کے لئے ایک حکمت عملی بھی تجویز کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال کم و بیش 8 لاکھ افراد خود کو موت کے حوالے کرتے ہیں‘ زیادہ تر افراد 15 سے 29 سال کے ہیں۔ سماجی بے چینی‘ معاشی تفکرات‘ خاندانی جھگڑے‘ نوکریوں کے تنازعات اور ہزاروں طرح کی سر پر لٹکتی تلواروں نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے۔
ایک تحقیق سے انکشاف ہوا کہ مالی‘ سماجی اور طبی وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک وجہ ڈپریشن ہے اگرچہ خودکشی کرنے والے کی اصل وجہ کو جاننا آسان نہیں ‘ کچھ اندازوں کے مطابق 30 فیصد اور کچھ اندازوں کے مطابق 70 فیصد پاکستانی ڈپریشن کی وجہ سے موت کو گلے لگاتے ہیں۔ نیا رکشہ خریدنے والے ڈرائیور کے ساتھ بھی یہی ڈپریشن ہوا۔ لاہور میں نئی موٹر سائیکل کو سڑک پر لانے والے نوجوان پر بھی ڈپریشن کا شدید دورہ پڑا۔ 60 برس ہوگئے ہم اب تک ڈپریشن پر قابو نہیں پاسکے اور ڈپریشن میں انسان خود کو موت کے حوالے کردیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق دنیا کے کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر شخص انتہائی جزباتی درد اور کرب کی کیفیت سے دوچار ہے اور کبھی کبھی یہ درد دکھ اور دباﺅ اس کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے۔ آئے روز کے دنگے فساد اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ میں نے جیسا کہا کہ پاکستان خودکشیوں کے معاملے میں نہ تو اکیلا ہے اور نہ ہی سب سے آگے ہے‘ دماغ کے اندر کھچڑی دنیا کے ہر ملک میں پک رہی ہے۔ امریکہ میں ہر سال 30 ہزار لوگ اپنی مرضی سے موت کو قبول کرتے ہیں‘ سمجھ لیجئے کہ ہر پانچویں روز امریکہ میں ایک جمو طیارہ کریش ہورہا ہے‘ ہر روز 80 لوگ امریکہ میں خودکشی کرتے ہیں اور دنیا میں 20 ہزار لوگ اپنے آپ کو موت کے حوالے کرتے ہیں۔ ایک اور رپورٹ میں یہ بتائی گئی تعداد پاکستان میں کچھ بھی نہیں‘ یہ اس سے تین گنا زیادہ بھی ہوسکتی ہے‘ جتنے واقعات منظر عام پر آتے ہیں‘ اس سے کہیں زیادہ واقعات روز پذیر ہوتے ہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق خودکشیوں کی ہزاروں‘ لاکھوں کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں۔
بہت سے لوگ مجموعی طور پر اپنی زندگی میں دس سے بیس مرتبہ خودکشی کی ناکام کوشش بھی کرتے ہیں‘ کبھی دیواروں سے سر ٹکرانا‘ کبھی کسی ویرانے میں بیٹھ کر روٹی‘ پانی چھوڑ دینا‘ بھوک ہڑتال کردینا‘ یہ سب خودکشی کی ابتدائی علامتیں ہیں بلکہ ایک تحقیق نے بتایا کہ امریکہ میں سال بھر میں کم و بیش 3 ارب مرتبہ خودکشی کی کوشش کی جاتی ہے جن میں سے بہت سی کوششےں ناکام ثابت ہوتی ہیں‘ آدھے سے زیادہ افراد زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر موت کو قبول کرلیتے ہیں۔
پاکستان میں 9 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں‘ کم از کم سوا کروڑ خاندانوں کو روٹی کا مسئلہ درپیش ہے۔ سیاسی جھمیلے وہ کیا جانیں‘ 7 کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور 8 کروڑ لوگ علاج و معالجے کو ترس رہے ہیں۔ غربت کے انڈیکس پر پاکستان نچلی ترین سطح پر ہے اور اس کا شمار انتہائی پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ان وجوہات کو گزشتہ 20 سال سے پھیلنے والی خودکشیوں سے جوڑا جارہا ہے۔
جنوری 2000ءسے اب تک ہزاروں لوگوں نے کراچی‘ لاہور اور دوسرے شہروں میں موت کو گلے لگایا۔ کراچی میں 2000ءمیں 233 افراد نے خودکشی کی۔ صنعتی شہر کا یہ حال اس کے نزدیک انڈین ٹی وی کے پررونق ڈراموں نے معاشرے میں بے چینی کا وہ زہر گھولا جس نے لوگوں کو ایک سیراب کی تلاش میں بھٹکنے پر مجبور کیا۔ زندگی اتنی پررونق ہے کہ لوگ سو‘ سو کروڑ کی بات کرتے ہیں‘ زندگی اس قدر مہنگی ہے کہ لوگ 50,50 کروڑ کے محل میں رہتے ہیں‘ ایک وہم سے دوچار کیا۔ حقیقی زندگی انڈرین ڈراموں کے پرکیف ماحول سے کہیں تلخ تھی۔ ایک گھنٹے کے بعد ان کے ذہن میں سرائیت کرنے والا سارا خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے انڈین ڈراموں نے رنگ دکھانا شروع کیا پاکستان میں خودکشےوں کا رجحان بڑھا۔
1997ءمیں 28 لوگوں نے خودکشی کی‘ ڈش کے منظر عام پر آنے کے بعد خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد 4 سو سے تجاوز کرگئی‘ تقریباً دگنی سوہوگئی۔ زیادہ تر نئی نسل خود کو موت کے حوالے کررہی تھی۔ 2000ءمیں جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا خودکشیوں کا رجحان بڑھنا شروع ہوا‘ ایک اور اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے پانچ سو افراد نے خودکشی کی تھی جبکہ 2001ءمیں یہ تعداد ساڑھے چار گنا یعنی 24 سو ہوگئی۔ کیا پاکستان میں ہر سال 3 ہزار لوگ خود کو موت کے حوالے کررہے ہیں۔ نواز شریف دور میں بڑے پیمانے پر نجکاری سے بے روزگاری نے جنم لیا۔ نجی شعبے کے پھیلاﺅ‘ مشینری کی آمد اور جدید دور میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو چپڑاسیوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور کیا گیا۔ وی آئی پی پاس لوگوں نے چپڑاسیوں کی نوکریوں کے لئے درخواستیں دینا شروع کیں۔شتربے محا کی طرح پھیلتے ہوئے انٹری ٹیسٹ نے نوجوانوں کو الگ سے ڈپریشن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پڑھا لکھا پیچھے رہ گیا اور کم پڑھے لکھے لوگوں کا ٹیسٹ سسٹم معاشرے میں زہر گھولنے لگا۔ اعلیٰ ترین نمبر حاصل کرنے والے نوجوان بھٹکنے لگے۔ ذرا سوچئے ایک ہزار سے اوپر نمبر لینے والا بچہ انٹری ٹیسٹ میں رہ جانے کے بعد کیا کرے گا۔ میڈیکل میں ایف ایس سی کرنے کے بعد اس کے پاس کون سا راستہ بچتا ہے‘ کس طرف جائے‘ ہر شعبے میں بے روزگاری کسی آسیب کی طرح پنجے گاڑھے کھڑی ہے۔ ایک سروے میں پتہ چلا کہ نجکاری کے تین‘ چار برس کے اندر اندر ساڑھے تین لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔

(376 بار دیکھا گیا)

تبصرے