Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 10 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قومی میگزین منگل 06 نومبر 2018

انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے‘ جو عالمی سطح پر مختلف ممالک کی معیشت اور ان کی باہمی کارکردگی بالخصوص زرمبادلہ ‘ بیرونی قرضہ جات پر نظر رکھتا ہے اور ان کی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لیے قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے‘ اس ادارے کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے باعث مسائل پیدا ہوئے تو بہت سے یورپی ممالک کوتوازن ادائیگی کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا‘ اس طرح یہ ادارہ ایسے ممالک کی مدد کرنے کے لیے وجود میں لایاگیا‘ آئی ایم ایف جنگ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدے کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کے لیے دسمبر 1945 ءمیں قائم ہوا‘ اس کا مرکزی دفتر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہے‘ اس وقت دنیا کے 185 ممالک اس کے رکن ہیں‘ شمالی کوریا ‘ کیوبااور کچھ دوسرے چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک ہی اس کے ممبرز ہیں‘ قابل ذکربات یہ ہے کہ انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ پر مکمل طورپر بڑی طاقتوں کا راج ہے ‘ جس کی وجہ سے اس کے فیصلوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ‘ یہ ادارہ ایسے ممالک کو قرضہ دیتا ہے ‘ جو ان ممالک کے بیرونی قرضہ میں شامل ہوتے ہیں‘ ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک پر کچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہےں‘ جن کے بارے میں ناقدین کا خیال یہ ہے کہ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کے معاشی حالت کو بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید بگاڑ دیتے ہیں‘ناقدین کے نزدیک آئی ایم ایف کا کردار ایک بین الاقوامی پولیس جیسا ہے ‘ آئی ایم ایف غریب ممالک کو ایسی کڑی شرائط پر قرض دیتا ہے‘ جن سے سود کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس سے غربت بڑھ جاتی ہے‘ ٹیکس بڑھایا جائے اور حکومتی اخراجات کی کمی کی جائے‘ اس سے عوامی سہولیات میں کمی آئی اوربے روز گاری بڑھتی ہے ‘ زیادہ سے زیادہ قومی اداروں کی نجکاری کی جائے‘ جس سے ملکی اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جاتے ہیں‘ بین الاقوامی سرمائے کی ملک میں آمدورفت سے تمام پابندیاں ہٹالی جاتی ہیں‘ اس سے اسٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے‘ بین الاقوامی بینکوں اور کارپوریشنز کو زیادہ سے زیادہ آزادی دی جائے‘ جس سے ملکی صنعتیں مفلوج ہو جاتی ہیں‘ اس کے بعد ان غریب ممالک کو بس اتنی رقم مزید قرض دی جاتی ہے ‘ کہ وہ اپنے موجودہ بین الاقوامی قرضوں کا سودا ادا کرسکیں ‘ ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی دولت آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی ہے‘ 2008 ءکے بین الاقوامی مالیاتی بحران میں صرف 2 ممالک زیادہ متاثر نہیں ہوئے اور یہ بھارت اورچین تھے‘ دراصل ان دونوں ممالک میں آئی ایم ایف کا اثر رسوخ بہت کم ہے‘ تاریخی طورپر دیکھا گیا ہے کہ جن ممالک نے مکمل طورپر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضے حاصل کیے اور ان کے ساتھ ملحق شرائط کو من وعن نافذ کیا وہ معاشی طورپر تباہ ہوگئے‘ یہ بات لاطینی امریکہ کے ممالک پر صادق آتی ہے ‘ جن کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کی وجہ سے 1980 ءکی دہائی میں مالیاتی بحران کا شکار ہونا پڑا‘ 1997 ءکے جنوب مشرقی ایشیاءکے مالیاتی بحران کو بھی ان پالیسیوں کا نتیجہ کیاجاتا ہے‘ جو ان ممالک نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ غریب ملکوں میں بجلی اور ذرائع ومواصلات کی قیمت کے بڑھنے کی ذمہ دار ہے ‘ مثلاً پاکستان کو دیئے جانے والے قرضوں کے ساتھ یہ شرائط رکھی جاتی ہیں‘ ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ٹیلیفون کی اور بعض دوسری اشیاءمثلاً پیٹرول پرایکسائز ڈیوٹی بڑھائی جائے‘ اس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑتا ہے اور ایسا کرنے سے غربت مزید بڑھ جاتی ہے‘ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی واحد کامیابی 1940ءکے آخر اور 1950 ءکی دہائی میں ان مغربی ممالک کی تعمیر ومدد ہے ‘ جو دوسری جنگ عظیم سے بری طرح متاثر ہوئے تھے‘ ان ممالک میں برطانیہ ‘ فرانس اور جرمنی شامل ہیں‘ بعض لوگ اس بات کو بھی کامیابی سمجھتے ہیںکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے دنیا کو ایک مالیاتی نظام دیا‘ جو امریکی ڈالر پر انحصار کرتا ہے‘ مگرد نیا یہ بھی دیکھ چکی ہے کہ یہ نظام بھی کامیابی سے نہیں چل سکا اور دنیا کو جلد ایک نئے نظام کو وضع کرنا پڑا ‘ جس میں زرمبادلہ کی قیمت آزاد بنیادوں پر رسد وطلب کے مطابق متعین ہوتی ہے ‘ ماہرین معیشت کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے منصوبے افراط زرپیدا کرتے ہیں‘ جو تیسری دنیا کے ممالک کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بہت زیادہ متاثرین میں ارجنٹائن ‘نائیجیریااور صو مالیہ جیسے ممالک بھی شامل ہیں‘ گزشتہ برس آئی ایم ایف نے NON CONCESSIONAL ACTIVITY LOAN کے طورپر بھاری قرضے جاری کرنے کے معاہدے کیے ‘ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ قرضے حاصل کرنے والے محض 3 ملک ہیں اور یہ میکسیکو‘ کولمبیا اور پولینڈ شامل ہیںاور ان ممالک نے جتنے قرضے حاصل کیے‘ وہ قرضوں کے کل معاہدوں کے 78 فیصد کے برابر تھے‘ میکسیکو شمالی امریکہ میں واقع ایک اہم ملک ہے‘ جو امریکہ کے جنوب میں ہیں‘ میکسیکو تقریباً 2 ملین مربع کلو میٹر پر پھیلا ہواہے ‘ اس کی آبادی 11 کروڑ کے قریب ہے ‘ امریکہ اور اس کے درمیان تناﺅ کی کیفیت رہتی تھی‘ حتی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کے نام پر بہت سیاست کی اور اس سے عوامی ہمدردی اورووٹ بھی حاصل کیے ‘ بہر حال اگر ہم آئی ایم ایف کی 2017 ءکی رپورٹ کو مد نظر رکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ میکسیکو نے گزشتہ برس آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرض حاصل کیااور یہ حیران کن حد تک سرپرائزنگ بھی ہے کہ گزشتہ برس میکسیکو نے 62.4 بلین SDR قرض حاصل کیا‘ جس سے ہم بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیںکہ میکسیکو کی معاشی حالت کیسی ہوئی ؟ اب مسلسل جنگ ہارنے والی نام نہاد سپر پاورامریکہ کی بھی آنکھیں کھل چکی ہیں ‘ کیونکہ امریکہ میں بے روز گاری بہت زیادہ حد تک بڑھ چکی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مہینے امریکہ نے میکسیکو سے محاذ آرائی کرنے کے بجائے اس کے ساتھ معاشی معاہدہ کرلیا‘ جس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کی فلاح وبہبود ہے ‘ اس معاہدے میں کینیڈا بھی شامل ہے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ کیے جانے والے نئے تجارتی معاہدے کو ”اہم ترین “ قرار دیا ‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ‘ میکسیکو اور کینیڈا معاہدہ (یو ایس ایم سی اے )نیفٹا کی جگہ لے گا اور اس سے شمالی امریکہ میں ہزاروں ملازمتیں واپس آئیں گی‘ وائٹ ہاﺅس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئے معاہدے نے ان کی تجارتی محصولات کے بارے میں دی جانے والی دھمکیاں صحیح ثابت کردی ہیں‘ امریکی صدر کے مطابق 3 ممالک کے درمیا ن ہونے والا نیا تجارتی معاہدہ 1.2 ٹریلین ڈالر کی تجارت کور کرے گااور یہ ”واقعی تاریخی معاہدہ“ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ معاہدہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ ہے‘ اس معاہدے کی وجہ سے امریکہ میں بڑی تعداد میں ملازمتیں واپس آجائیں گی‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے ”امریکہ پہلے“ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کرنے کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا سے آنے والی اسٹیل اورایلومینیم کی درآمد محصولات عائد کیں‘ ٹرمپ نے کہا کہ محصولات کے بغیر ہم معاہدے کے بارے میں بات نہیں کررہے تھے‘ پوری دنیا کے امن کو برباد کرنے اور ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے سے لڑوانے والا امریکہ خود اپنے ہمسایوں کے ساتھ معاشی بندھن میں قائم کررہا ہے ‘ اس لیے پوری دنیا کو اس کی چالاکیوں اور عیاریوں کو سمجھنا ہوگا۔

(362 بار دیکھا گیا)

تبصرے