Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

راﺅ عمران اشفاق منگل 06 نومبر 2018

15 ستمبر کی صبح ناردرن بائی پاس ایم ڈی کٹ کے قریب اینٹی کار لفٹنگ سیل کے پولیس مقابلے کی اطلاع ملی چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ مقابلے میں پولیس نے فائرنگ کے تبادلے میں 3 خطرناک کار لفٹر کو مار دیا‘ اس مقابلے میں جدید اسلحے سے لیس کارلفٹر تو مارے گئے‘ لیکن حیرت انگیز طورپر کسی پولیس اہلکار کو خراش نہیں آئی اور اس سلسلے میں معلوم ہوا کہ اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس کو اطلاع ملی کہ اغواءبرائے تاوان اور گاڑیوں کی چوری اور چھینا جھپٹی میں ملوث 3 رکنی گرہ موجود ہے‘ جس پر اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس نے ناردرن بائی پاس پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی‘ اسی دوران منگل کی علی الصبح کار نمبر BJK-155 کو پولیس نے رکنے کا اشارہ کیا تو کار میں سوار ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور موقع سے فرار ہونے لگے ، پولیس کی جوابی فائرنگ سے کار میں سوار 3 ملزمان شدید زخمی ہوگئے ، جن کو پولیس نے گرفتار کرکے انکے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا اور ملزمان کو قریبی اسپتال پہنچا رہے تھے کہ ملزمان نے دوران سفر دم توڑ دیا‘ ایس ایس پی اینٹی کارلفٹنگ سیل منیر احمد شیخ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت اسپتال میں اشوک کمار‘ شہزاد عباسی اور اسد اللہ عمرانی کے ناموں سے ہوئی ‘ ان کا کہنا ہے کہ تھا ملزمان کا 3 رکنی گروہ تھا اور گروہ کا لیڈر شہزاد عباسی تھا ، ملزمان اغواءبرائے تاوان ‘ گاڑیوں کی چوری اور اسلحہ کے چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے ‘ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والا ملزم اشوک کمار 1999 ءسے کاروں کی چوری ، اغوائے برائے تاوان ‘ ڈکیتیوں سمیت حال ہی میں سرکاری گاڑیوں کی چھیننے میں ملوث تھا ، ہلاک ملزم اشوک 1999 ءمیں حیدر آباد سے اغواءکے مقدمہ میں گرفتار ہوا لیکن سال 2000 ءمیں رہا ہوگیا اور گاڑیاں چھیننا شروع کردیں ‘2003 ءمیں اینٹی کارلفٹنگ سیل اور 2005 ءمیں شاہراہ فیصل پولیس کے ہاتھوں اغواءبرائے تاوان کے جرم میں گرفتار ہوا پھر سال 2006 میں فریئر پولیس کے ہاتھوں اغواءبرائے تاوان کے جرم میں 25 سال کی سزا ہوئی اور ستمبر 2017 ءکو رہا ہوکر دوبار گینگ کو متحرک کیا اور 23 مارچ 2018 ءکو گرفتار ہوکر جیل گیا اور 25 جون 2018 ءکو جیل سے رہا ہوکر دوبارہ وارداتیں شروع کردی تھیں‘ ہلاک ملزم کے خلاف اب تک 30 مقدمات درج ہیں ، گروہ کا سرغنہ شہزاد عباسی پہلی مرتبہ سال 2002 ءمیں اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا اور اب تک 44 مقدمات میں گرفتار ہوچکا ہے ‘ اور ہر بار جیل سے ضمانت پر رہا ہوکر دوبارہ وارداتیں شروع کردیتا تھا ‘ہلاک ہونے والا ملزم اسد اللہ عمرانی ملزمان کا ساتھی تھا اور اپنی چالاکی اور شاطر پن کی وجہ سے اینٹی کار لفٹنگ سیل پولیس کے ہاتھوں گرفتار نہیں ہوا تھا

، تاہم اسکے خلاف ڈکھن ضلع شکار پور اور لاڑکانہ میں مقدمات درج تھے ، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے دو ٹی ٹی پستول اور رائل 12 بور اور سمن آباد کے علاقے سے چوری شدہ کار برآمد کرلی۔خیر یہ تو پولیس کا موقف تھا‘ ملزمان کی نعش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال پہنچیں تو وہاں ہلاک ہونے والے نوجوان اسد عمران کے اہل خانہ بھی پہنچ گئے تھے‘ مقتول کے بھائی محمد علی نے کہا کہ اسد کا پوسٹ مارٹم ہماری موجودگی میں کیا جائے‘ اس کے بھائی نے ایمبولینس کے سامنے دھرنا بھی دیا ‘ مقتول کے ورثاءکے مطابق ان کے بھائی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیااور پوری منصوبہ بندی سے جعلی مقابلے میں ہلاک کیا‘ مقتول کے بھائی محمد علی شدت غم سے نڈھال تھا ‘ وہ اپنے چھوٹے بھائی کی ہلاکت پر سرپٹخ کر رورہا تھا‘ حواس بحال ہونے پر بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جانثار وں سے ہمارا تعلق لاڑکانہ سے ہے ‘ انہوںنے بتایا کہ ہم 10 بھائی ہیں‘ مقتول اسد عمرانی پانچویں نمبر پر تھا‘ انہوںنے بتایا کہ میرے چھوٹے بھائی عنایت عمرانی نے لاڑکانہ سے بلاول بھٹو کے مقابلے پر شہید بھٹو گروپ کی جانب سے الیکشن لڑا تھا‘ سائیں مرتضیٰ بھٹوکی شہادت کے بعد ہم محترمہ غنویٰ بھٹو کی قیادت میں شہید گروپ میں کام کررہے ہیں ‘ انہوںنے بتایا کہ جس اسد عمرانی کو پولیس خطرناک کا ر لفٹرقرار دے رہی ہے‘ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کروڑوں کی جائیداد کا مالک ہے‘ اسد عمرانی سندھ یونیورسٹی میں سندھ پیپلز اسٹورڈنٹس فیڈریشن شہید بھٹو گروپ کا صدر رہ چکا ہے ‘ لاڑکانہ میں ان کا پیٹرول پمپ اور سینکڑوں ایکڑ اراضی ہے ‘ اس کے علاوہ وہ شکار پور سے لاڑکانہ آپٹیکل فائبر کا سپر وائزر تھا‘ محمد علی نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم کے لیے کراچی میں شفٹ کررہا تھا‘ اس کے لیے اس نے منگھوپیر میں واقع مون سٹی میں اپنا گھر تعمیر کرایاتھا‘ اس کے 3 بچوں میں ایک بیٹی اور2 بیٹے شامل ہیں‘ وہ جمعہ کے روز اپنی سوزوکی مہران کار BLY-530 میں کراچی آیاتھا‘ اپنے گھر کی تعمیرات کو مکمل کروا رہا تھا‘ جمعہ کی شب 8 بجے اس نے اپنی بیوی سے بات کی ‘ اس کے بعد 8 بج کر 40 منٹ پر بڑے بھائی محمد علی سے بات ہوئی تھی‘ محمد علی عمرانی نے بتایا کہ 9 بجے ایک وٹس کار‘ سوزوکی صرت حبیب سمیت دیگر گاڑیوں میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اسد کو اس کے گھر سے اٹھا کر لے گئے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو اغواءکرلیاگیا‘ ہمیں جب اطلاع ملی تو ہم نے پولیس سے رابطہ کیا علاقے کے چوکیدار اور مکین بھی گواہ ہیں کہ اسد عمرانی کو اغواءکیاگیا ہے۔ ہم فوری طورپر لاڑکانہ سے کراچی کی طرف روانہ ہوئے ‘اور صبح جامشورو کے قریب پہنچے تو ہمیں اطلاع ملی کہ ٹی وی پر خبر چل رہی ہے کہ اسد کو پولیس نے مقابلے میں ہلاک کردیا‘ محمد علی عمرانی نے بتایا کہ پورے پاکستان میں اس کے بھائی کے خلاف ایک کریمنل مقدمہ درج نہیں ہے ‘ اپنے بھائی کی نعش لے کر اپنے آبائی علاقے لاڑکانہ کے گاﺅں مورخان عمرانی پہنچے تو پورے علاقے میں کہرام مچ گیا‘ جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ‘ نماز جنازہ ہمارے مرشد سید غلا م حسن شاہ نشر والے کے گدی نشین سید عطاءاللہ شاہ نے پڑھائی ‘ ہم نے اپنے بھائی کی تدفین گاﺅں میں رہائش گاہ کے ساتھ ہی کی ہے‘ محمد علی عمرانی نے بتایا کہ ہمارے ساتھ پولیس نے بہت ظلم کیاہے ۔پولیس نے ہماری نہیں سنی تو ہم نے عدالت سے رجوع کیا‘ منگھوپیر تھانے میں اسد عمرانی کے قتل کا مقدمہ 440/2018،اے سی ایل سی کے اہلکاروں کے خلاف درج کرادیا‘ ہم نے پولیس کو تمام شہادتیں دی ہیں کہ وہ اسد عمرانی کی کار بھی مل گئی ہے ‘ محمد علی عمرانی کے مطابق جس کے پاس اپنی نئی کار ہووہ ناردرن بائی پاس پر جا کر کار کیوں چھینے گا‘ انہوںنے کہا کہ جب تک ہمارے بھائی کے قاتل پولیس اہلکار گرفتار نہیں ہوں گے‘ ہم چین سے نہیں بیٹھیںگے۔

(183 بار دیکھا گیا)

تبصرے