Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پولیس کو سدھارنے کی کوششیں

عارف اقبال پیر 05 نومبر 2018
پولیس کو سدھارنے کی کوششیں

شہر کراچی میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے افسران و اہلکاروں کو شہریوں سے اخلاق سے پیش آنے اور تھانوں میں آئے سائلوں سے ہرممکن تعاون کرنے کا حکم دینا کوئی نئی بات نہیں لیکن اعلیٰ افسران کی جانب سے شہریوں کو آسانیاں اور سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کو پولیس میں شامل کالی بھیڑیں کامیاب نہیں ہونے دیتیں جس کی وجہ سے شہریوں اور ان کے درمیان فاصلے کم ہونے اور ان کے درمیان ایک اچھی ہم آہنگی کی تمام کوششےں ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے رائیگاں چلی جاتی ہےںاور تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر کالی بھیڑیں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس ادارے میں اچھی شہرت کے حامل افسران و اہلکاروں کو خفت اٹھانی پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی بدنامی کو نیک نامی میں تبدیل کرنے کے لئے حال ہی میں تعینات ہونے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ اپنے عہدے پر براجمان ہوتے ہی دن اور رات گئے شہر کے مختلف تھانوں میں سرپرائز ویزٹ کرنا شروع کیا جہاں انہوں نے ڈیوٹی سے ہٹ کر دیگر سرگرمیوں میں ملوث افسران و اہلکاروں کو سزا دی تو چاق و چوبند عملے کو جزاءدیتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے بھی نوازا، جو یقیناً ان افسران وا ہلکاروں کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات تھی۔ پولیس چیف کی جانب سے اس حوصلہ افزائی سے ان کے دلوں میں عوام کی خدمت اور دیگر امور کو نمٹانے کی لگن نے دوچند کردیا گیا۔کراچی پولیس چیف کی جانب سے پولیس ڈپارٹمنٹ میں اپنی جانب سے کی جانے والی کوششیں یقیناً لائق تحسین ہے۔ ڈاکٹر امیر شیخ کی یہ تمام کاوشیں دوسرے افسران و اہلکاروں کے لئے بھی ایک مثال ہوںگی، کہ اچھا کرو گے تو انعام پاﺅ گے اور غلطی پر معطلی بھی ہوسکتی ہے، لیکن پولیس میں شامل ان کالی بھیروں پر ایڈیشنل آئی جی کی کاوشوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ دن رات غیرقانونی دھندوں کی سرپرستی اور رشوت کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں جو خبر کی شکل میں زبان زد عام رہتی ہے۔شہر میں ٹریفک پولیس کی رشوت ستانی بھی عام ہے‘ مختلف شاہراہوں‘ چوکوں اور چوکیوں کے قریب کھڑے سفید وردی میں ملبوس ٹریفک پولیس افسران و اہلکار ویسے تو بہت ہی بے ضرر نظر آتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ سفید وردی میں ملبوس کالی بھیڑوں کی کہانی موٹرسائیکل سواروں‘ رکشہ اور لوڈنگ گاڑیاں چلانے والے ڈرائیوروں سے سنی جاسکتی ہے اور ان ہی

سفید وردی میں ملبوس کالی بھیڑوں کی رشوت ستانی سے تنگ آکر ایک نوجوان رکشہ ڈرائیور نے اپنے جسم پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی۔شہر کراچی میں رشوت ستانی کے خلاف کسی رکشہ ڈرائیور کا اپنے جسم پر جو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔واقعہ کے مطابق 20 اکتوبر 2018ءہفتے کے روز شارع فیصل پر ٹریفک پولیس کی رشوت خوری سے تنگ رکشہ ڈرائیور نے پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی جسے موقع پر موجود شہریوں نے اسے جھلس کر جان دینے سے بچالیا اور اسپتال منتقل کردیا جہاں اس کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں طبی امداد دی گئی۔اس واقعہ کے پیش آنے پر آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے واقعہ کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ اس ضمن میں ایس ایچ او صدر شبیر حید رکا کہنا تھا کہ رکشہ ڈرائیور نے بیان دیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی حنیف نے رشوت نہ دینے پر چالان کاٹا جبکہ ٹریفک پولیس اے ایس آئی حنیف آئے روز اس سے رشوت کا مطالبہ کرتا ہے اور نہ دینے پر چالان کاٹتا ہے جس پر اس نے یہ قدم اُٹھایا۔ ایس ایچ او نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس سے تحفظات کے باوجود غلط اقدام اُٹھانے پر مضروب کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔پولیس کے مطابق مضروب رکشہ ڈرائیور کی شناخت 28 سالہ خالد ولد یوسف کے نام سے ہوئی۔ مضروب ملیر ماڈل کالونی کا رہائشی اور ملیر سے صدر کی شاہراہ پر رکشہ چلایا کرتا تھا۔ دوسری جانب اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ رکشہ ڈرائیور خالد 50 فیصد سے زائد جھلس چکا تھا۔ خالد کے بڑے بھائی عبدالعزیز کے مطابق خالد نے خودسوزی گھریلو پریشانی یا کسی اور وجہ سے نہیں کی بلکہ صدر ٹریفک چوکی کا پولیس اہلکار اُس سے آئے روز رشوت طلب کرتا تھا اور واقعہ والے روز بھی اس پولیس اہلکار نے 50 روپے رشوت طلب کی تھی اور روز روز کی رشوت ستانی سے تنگ آکر اس نے آج یہ انتہائی اقدام اُٹھایا۔ مضروب محمد خالدنے اسپتال میں 2 روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوکر بالآخر 23 اکتوبر 2018ءکو دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اطلاع کے مطابق صدر تھانے کی حدود شارع فیصل کراچی پولیس آفس (K.P.O) کے سامنے قائم ٹریفک چوکی پر ہفتے کو اے ایس آئی حنیف نے 28سالہ رکشہ ڈرائیور خالد کا چالان کردیا تھا جس پر اس نے مشتعل ہوکر اپنے آپ کو آگ لگالی تھی۔ نوجوان کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال کے برنس وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد پیر کو انتقال کرگیا۔متوفی نے اپنے جسم پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے سے پہلے ٹریفک پولیس اہلکار حنیف کے خلاف ایک خط بھی تحریر کیا جس میں متوفی نے اس واقعہ کا ذمہ دار پولیس اہلکار حنیف کو قرار دیتے ہوئے خط میں لکھا کہ بعداز سلام عرض کرنا یہ ہے کہ فدوی محمد خالد ولد یوسف درمحمد ‘ رہائشی ماڈل کالونی خودکشی کررہا ہے جس کی وجہ گھریلو پریشانی یا کوئی قرض نہیں بلکہ فدوی خودکشی کو حرام جانتا ہے لیکن ٹریفک سارجنٹ اے ایس آئی محمد حنیف کی زیادتی کے باعث کررہا ہوں تاکہ میری موت سے لاکھوں غریب ڈرائیوروں کو فضول اور ناجائز چالانوں سے نجات ملے اور محمد حنیف کی زیادتیوں کا احوال بتاتا چلوں کہ اس نے مجھ سے 50 روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا اور آج میرے رشوت نہ دینے پر زبردستی چالان دے کر میرا رکشہ بند کردیا جبکہ میری غلطی بھی کوئی نہیں تھی۔ میری خودکشی کی وجہ محمد حنیف کی اور اس جیسے دوسرے اہلکاروں جو بلاوجہ غریبوں کا خون چوس رہے ہیں ان کے خلاف ایکشن لینا ہے تاکہ ان کو بھی احساس ہو۔ اس سے قبل واقعہ کی اطلاع ملنے پر ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ نے سول اسپتال برنس وارڈ میں زیر علاج رکشہ ڈرائیور محمد خالد کی عیادت بھی کی تھی۔ تاہم اسپتال میں 2 روز زندگی اور موت کی کشمکش میں رہتے ہوئے دم توڑ گیا۔
ایس ایچ او شبیر حیدر کا کہنا تھا کہ رکشہ ڈرائیور کا ٹریفک پولیس کا ہیڈکانسٹیبل حنیف اس سے رشوت کا مطالبہ کرتا تھا اور نہ دینے پر چالان کردیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی نے واقعہ کا نوٹس لیا اور ٹریفک پولیس کے افسران سے رپورٹ طلب کرلی ہے تاہم دوران علاج متوفی کے دم توڑنے کے بعد پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد متوفی کی نعش اس کے ورثاءکے حوالے کردی۔ متوفی رکشہ ڈرائیور خالد یوسف کی نماز جنازہ گزشتہ روز بعدنماز ظہر ماڈل کالونی میں واقع فریال گراﺅنڈ میں ادا کی گئی‘ نماز جنازہ میں سیاسی جماعت کے رہنما خرم شیرزمان‘ راجہ اظہر‘ وقاص نیازی‘ مسلم لیگ کے سینئر رہنما رانا احسان اور متوفی رکشہ ڈرائیور کے عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ متوفی رکشہ ڈرائیور کی میت آہوں اور سسکیوں کے درمیان ماڈل کالونی قبرستان میں سپرد خاک کردی گئی‘ اس دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ تدفین کے عمل کے بعد ماڈل کالونی قبرستان کے باہر متوفی کے اہل خانہ‘ عزیز و اقارب‘ علاقہ مکینوں اور رکشہ ڈرائیوروںنے ٹریفک پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا جس کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے ٹریفک پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ احتجاج کی اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور انہوں نے فوری طور پر صورت حال کو کنٹرول کرکے ٹریفک بحال کروادیا۔ اس موقع پر رکشہ ڈرائیور خالد کی نماز جنازہ میں آئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ میں پولیس سے سوال کرتا ہوں کہ کتنی بڑی گاڑیوں کے چالان کئے گئے ہیں‘ یہاں تو صرف غریبوں کو ہی ٹارگٹ کیاجاتا ہے۔ہماری اپنی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری حفاظت کریں اور اپنا رویہ اچھا رکھیں لیکن پولیس غریبوں کے ساتھ انتہائی غلط رویہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پولیس سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے بتایا جائے کہ ٹریفک پولیس نے کتنی بڑی گاڑیوں کے چالان کئے ہیں‘ یہاں تو صرف غریبوں کو ہی ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔

 

سندھ حکومت سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات کرائی جائے۔ پی ٹی آئی متوفی خالد کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ ہم آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف کے پاس بھی جائیں گے اور خالد کے لواحقین کو انصاف دلائیں گے۔ تاہم صدر پولیس نے ٹریفک پولیس ہیڈکانسٹیبل حنیف کو گرفتار کرتے ہوئے ملزم کے خلاف ایک مقدمہ 273/2018 خودکشی دفعہ کے تحت درج کیا جبکہ دوسرا مقدمہ 274/2018 گرفتار اہلکار کے خلاف رشوت کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ حوالدار حنیف کے خلاف اینٹی کرپشن کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں مقدمات ملزم حنیف کے خلاف سرکاری مدعیت میں درج کئے گئے ہیں۔ مقدمات درج ہونے کے دوسرے روز پولیس نے معطل ٹریفک پولیس اہلکار حنیف کو معزز عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی حنیف کی ایک لاکھ روپے کی ضمانت منظور کرلی۔ تھانہ صدر پولیس نے ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی محمد حنیف کو جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی حنیف نے چالان کاٹا تھا‘ رکشہ ڈرائیور کچھ دیر بعد آیا اور خود کو آگ لگالی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ چالان جو کاٹا گیا تھا وہ کہاں ہے جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ میرے پاس ابھی کچھ نہیں ‘عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سی آر او پیش نہیں ہوا‘ ریمانڈ کیسے دیا جاسکتا ہے‘ قابل ضمانت دفعہ لگانی ہے‘ کیسے ریمانڈ دے دیا جائے جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے سول اسپتال کے برنس وارڈ کے زیر علاج مبینہ طور پر رشوت نہ دینے پر چالان کرنے پر خودسوزی کرنے والے زخمی رکشہ ڈرائیور خالد کی عیادت کی تھی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے رکشہ ڈرائیور کے اہل خانہ کو امدادی رقم کا چیک پیش کیا تھا تاہم رکشہ ڈرائیور اور اس کے اہل خانہ نے امدادی رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیاتھا

۔ کراچی پولیس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رکشہ ڈرائیور کا خودسوزی کرنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ٹریفک پولیس اہلکار نے 170 روپے کا چالان کیا تھا‘ وہ سمجھتے ہیں کہ شکایات کرنے کے بہت سارے سینٹرز موجود ہیں‘ جہاں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت درج کرائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ رکشہ ڈرائیور کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن وہ واقعہ کی انکوائری کررہے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے رکشے میں اسپیڈ میٹر نہ ہونے پر رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا جو کہ ناجائز عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ سے متعلق جب انہیں علم ہوا تو ٹریفک پولیس اہلکار کو معطل کردیا تھا اور چالان کے الیکٹرانک سسٹم کے مذکورہ رکشہ کا نمبر ڈال کر چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ2 سال کے دوران رکشہ ڈرائیورز کے مختلف علاقوںمیں 18 چالان ہوئے ہیں‘ انکوائری میں دیکھا جارہا ہے کہ ٹریفک پولیس ریکارڈ نے زخمی رکشہ ڈرائیورکے کتنے چالان کئے ہیں‘ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹریفک پولیس اہلکار ٹارگٹ کرکے رکشہ ڈرائیور کا چالان کیاتو ٹریفک پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور گرفتاری تک بھی جانا پڑا تو جائیں گے‘ انہوںنے کہا کہ میں ٹریفک کے افسران کو حکم دیتا ہوں کہ جو چالان کی رقم ادانہیں کرسکتااسے تنگ نہ کیاجائے اور وارننگ دے کر چھوڑ دیاجائے‘رکشہ ڈرائیوروں سے۸۹ بھی گزارش ہے کہ ٹریفک قوانین کا بھی احترام کریںاور جگہ جگہ رکشے کھڑا نہ کریں‘ اگرکسی کو بھی پولیس کے رویے کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو وہ مددگار15 ان واٹس ایپ نمبر اور فیس بک پیج پر کرسکتے ہیں‘ ان کا کہنا تھا کہ خودکشی کرنا حرام ہے اگر ٹریفک پولیس کسی کے ساتھ زیادتی کرتے ہیںتو اس کی شکایت درج کرائیں ‘ ہم نے خود ٹریفک قوانین کی دھجیاں بکھیر رکھی ہیں‘ جبکہ متوفی کے بھائی عبدالعزیز نے بتایا کہ ہمیں واقعہ کی اطلاع رات کو تقریباً9 بجے ملی کہ خالد نے خود کو آگ لگالی ہے اور سول اسپتال کے برنس وارڈ میں زیر علاج ہے ‘ اطلاع ملتے ہی میںاپنے دیگر رشتہ دار وں کے ہمراہ سول اسپتال پہنچاتو پتہ چلا کہ میرا چھوٹا بھائی 50 فیصد سے بھی زائد جھلس چکا ہے‘ زخمی حالت میں اس نے بتایا کہ صدر ٹریفک چوکی کا پولیس اہلکار اس سے آئے روز رشوت طلب کرتاتھا‘ آج وہ 50 روپے رشوت طلب کررہا تھا اور انکار کرنے پر اس نے اس کا 170 روپے کا چالان کردیااور رکشہ بھی چوکی میں بند کردیا‘خالدکا کہناتھا کہ ٹریفک پولیس کے اس رویے سے تنگ آکر اس نے اپنے اوپر پیٹرول چھڑک کر ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی محمد حنیف کی موجودگی میں خود کو آگ لگالی‘متوفی کے بھائی نے مزید بتایا کہ میرا بھائی حافظ قرآن اورمیٹرک پاس تھا‘پانچوں بھائیوں میں وہ سب سے ذہین اور سمجھدار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا‘ جس کی وجہ سے وہ کم عمری میں بھی عراق ‘ اردن ‘ آسٹریا ‘ ویانا اور ساﺅتھ افریقہ میں نوکریاں کرچکاتھا‘ اردن کے شاہی محل میں وہ 2 سال ٹی بوائے کی نوکری کرچکا تھا

‘ لیکن اپنے ملک سے محبت کی خاطروہ واپس کراچی آیااور رکشہ چلانے لگاتھا‘ ٹریفک پولیس کے ہتک آمیز رویے اور بے جا چالان سے تنگ آکر خود سوزی کرنے والا 28 سالہ رکشہ ڈرائیور خالد ولد یوسف گزشتہ روز دوران علاج دم توڑ گیا۔ متوفی حافظ قرآن تھا‘ جو ٹریفک پولیس اہلکار کا ناروا سلوک اور رشوت دینے پر مجبور ہونا برداشت نہ کرسکا‘ متوفی کے اہل خانہ کے بقول وہ دینداری کی وجہ سے رشوت خوری کے سخت خلاف تھااور وہ اکثر کہتا تھاکہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں یکساں گنہگار ہوتے ہیں‘ متوفی کے حوالے سے معلوم ہواکہ وہ اردن کے شاہی خاندان کے پاس بھی ملازمت کر چکا تھا‘ جہاں وہ شاہی محل میں ٹی بوائے چائے دینے والا تھا‘ اس کے علاوہ وہ دنیا کے دیگر ممالک میں روز گار کے سلسلے میں مقیم رہا ‘ متوفی کو انگریزی اور چائنیز سمیت 5 زبانوںپر عبور حاصل تھا‘ وطن واپس لوٹ کر وہ رکشہ چلانے لگا‘ واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو صدر تھانے کے باہر ایک رکشہ ڈرائیور خالد نے ٹریفک پولیس اہلکار سے تلخ کلامی کے بعد خود پرپیٹرول چھڑک کر آگ لگالی تھی‘ جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں چالان کاٹنے پر رکشہ ڈرائیور خالدنے خودسوزی سے متعلق متوفی کے بھائی عبدالعزیز نے انصاف کے لیے درخواست دائر کردی‘ درخواست میں موقف اختیار کیاگیاتھاکہ پولیس اپنے ساتھیوں کو بچانا چاہتی ہے ‘ رشوت طلب کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قتل کی دفعات شامل کی جائیں ‘ میرا بھائی ٹریفک پولیس اہلکار سے 3 ،4 گھنٹے تک منت سماجت کرتا رہا‘ مگر پولیس اہلکار نہیں مانے ‘ رشوت خور پولیس اہلکار براہ راست خالد کے قتل کا ذمہ دار ہے‘ پولیس میرے بھائی کا رکشہ بھی واپس نہیں کررہی‘ عدالت سے استد عا ہے کہ میرے بھائی کا رکشہ واپس کردیا جائے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ میں قتل کی دفعات شامل کی جائیں‘ جس پر سندھ ہائی کورٹ نے رکشہ ڈرائیور خالد کی خودکشی کیس میں عدالت کے سیکریٹری داخلہ ‘ سیکریٹری ٹرانسپورٹ آئی جی سندھ ‘ ایڈیشنل آئی جی کراچی‘ ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر سے جواب طلب کرلیا‘کیس کی درخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ رکشہ ڈرائیور خالد سے ٹریفک اہلکار روز رشوت وصول کرتے تھے‘ خالد نے پولیس سے تنگ آکر خودکشی کی‘ ٹریفک پولیس اہلکار ہر روٹ پر اور لوڈ بسوں سے رشوت وصول کرتے ہیں‘ ٹریفک پولیس اہلکار قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہے ہیں‘ پبلک ٹرانسپورٹ اور ہیوی وہیکلز بغیر فٹنس کے چلائی جارہی ہیں‘ ٹریفک حکام کو پابند کیاجائے کہ اسکول وینز اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سی این جی وایل پی جی سلنڈر نکالے جائیں‘ عدالت نے سیکریٹری داخلہ س‘ سیکریٹری ٹرانسپورٹ ‘آئی جی سندھ ‘ ایڈیشنل آئی جی کراچی ‘ ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر سے جواب طلب کرلیا ہے

‘ عدالت نے ہر ضلع کے ایس ایس پی ٹریفک اور دیگر کو بھی جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے ‘ جبکہ دوسرے واقعہ میں گلبہار تھانے کی حدود خاموش کالونی انڈر بائی پاس کے قریب رکشہ ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگانے کے بعد خودسوزی کی کوشش بھی کی‘ مکینوں نے رکشہ ڈرائیور کو پکڑ لیااور فوری طورپر پولیس اور فائر بریگیڈ کو طلب کرلیا‘ فائر بریگیڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر رکشہ میں لگی آگ بجھائی ‘ رکشہ مکمل طورپر جل گیا‘ پولیس نے رکشہ ڈرائیور کو گلبہار تھانے منتقل کردیا‘اس ضمن میں ایس ایچ او گلبہار ہدایت حسین نے بتایا کہ رکشہ ڈرائیور کی شناخت شاہد ولد عبدالمجید کے نام سے ہوئی‘ جو لیاقت آباد نمبر7 کے قریب کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہے ‘ ڈی ایس پی وجاہت حسین نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ رکشہ ڈرائیور گیس ڈلوانے سی این جی اسٹیشن پہنچاتو اسٹیشن بند تھا‘ جس پر ڈرائیور نے غربت اور حالات سے دلبرداشتہ ہوکر رکشے کو آگ لگادی اورخود کو بھی آگ لگانے کی کوشش کررہاتھاکہ موقع پر موجود مکینوں اور راہگیروں نے اسے پکڑ لیا‘ انہوںنے مزید بتایا کہ رکشہ ڈرائیور کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیاجائے گا‘ رکشہ ڈرائیور شاہد کا کہناتھا کہ آئے دن گیس کی بندش اور معاشی حالات ابتر ہونے کی وجہ سے اس نے 2 ماہ سے مکان کا کرایہ ادا نہیں کیا‘ میرے بچوں کو آنکھوںکی بیماری ہے غربت اور بچوںکی بیماری کے باعث پریشان ہوں ‘ جس پر اسے کچھ سمجھ نہیں آیا اور اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا‘ جبکہ رکشہ ڈرائیور کی اہلیہ کا کہنا تھاکہ مہنگائی بہت زیادہ ہوگئی‘ کھانے کے لالے پڑ چکے ہیں اور ہم بچوں کے مستقبل کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں‘ زندگی گزارنے کے لیے غریبوں کو ایدھی ہوم منتقل ہونا پڑے گا‘سی این جی مزید مہنگی کردی گئی‘ غریب کیا کمائیں اور کیا کھائیں‘ رکشہ ڈرائیورکی اہلیہ نے حکومت اور صاحب ثروت افراد سے مدد کی اپیل کی ہے‘ جبکہ پولیس زیادتی کا ایک اور معاملہ اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاﺅن میں پیش آیا‘ جب پولیس کی زیادتی سے تنگ اسحاق نامی مزدور نے اپنے جسم پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی‘ اسحاق کو شدید زخمی حالت میں سول اسپتال کے برنس وارڈ میں منتقل کیاگیا‘ ڈاکٹروں کے مطابق اسحاق کا جسم 80 فیصد جل گیا‘ جو چند گھنٹے بعد ہی دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا‘ متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر الزام لگایا کہ اقبال مارکیٹ تھانے کے متعین اے ایس آئی رضوان اور اہلکار ذاکر متوفی پر گھر فروخت کرنے کے لیے دباﺅڈالتے تھے اور متوفی اسحاق کو پولیس روزانہ کی بنیاد پر تھانے بلواتی یا اسے فون پر دھمکیاں دیتی تھی‘ جس سے دلبرداشتہ ہوکر متوفی نے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی‘ متوفی کے بھائی اسلام کے مطابق اسحاق کے 4 بچے ہیں اور متوفی محنت مزدوری کرتا تھا۔

(378 بار دیکھا گیا)

تبصرے