Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 24 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

!کراچی کا احساس

( مختار عاقل (دو ٹوک بدھ 31 اکتوبر 2018
!کراچی کا احساس

کراچی نے ضمنی انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان کی لاج رکھ لی ۔ 14اکتوبر 2018ءکو ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 35نشستوں پر انتخابات ہوئے ۔ ان میں دو لاہور اور ایک ایک کراچی و بنوں ( خیبرپختونخوا) کی نشستیں خود عمران خان نے خالی کی تھیں ۔ انہوں نے جولائی کے عام انتخابات میں 5نشستوں سے کامیابی حاصل کی تھی جن میں سے اپنے آبائی علاقہ میانیوالی کی سیٹ بر قرار رکھ کر دیگر چار نشستوں سے دستبردار ہو گئے تھے ۔ ان نشستوں پر 14اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہوئے ۔ وزیر اعظم کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے لاہور کی دو اور بنوں کی ایک نشست گنوا دیں ۔ لاہور سے عمران خان کی دونوں نشستوں پر ان کے بہترین سیاسی حریف میاں نواز شریف کے دونوں نامزد امیدوار شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق کامیاب ہو گئے جبکہ بنوں کی سیٹ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اکرم خان درانی نے حاصل کرلی ۔ اس الیکشن میں کراچی واحد شہر ہے جس نے عمران خان کا ساتھ دیا اور حلقہ این اے 243سے ان کے نامزد امیدوار عالمگیر خان نے کامیابی حاصل کی دوسرا ضمنی الیکشن کراچی کے حلقہ 247اور سندھ اسمبلی کا حلقہ 111کا انتخابی دنگل تھا جس میں کراچی پر 30سال تک حکمرانی کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ ‘ سندھ پر 1972سے مختلف شکلوں میں حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی اور کراچی کے لیے سب سے زیادہ تعمیراتی منصوبے مکمل کرنے والی میئر مصطفی کمال کی جماعت پاک سر زمین پارٹی ‘ پی ٹی آئی کے مد مقابل تھیں ۔ قومی اسمبلی کی یہ سیٹ ڈاکٹر عارف علوی کے صدر مملکت بننے اور صوبائی سیٹ عمران اسماعیل کے گورنر سندھ بننے سے خالی ہوئی تھیں ۔ بڑا دلچسپ اور سنسنی خیز معرکہ تھا ۔ پی ٹی آئی کی شکست بہت بھاری پڑ سکتی تھی ۔ قدرت اور کراچی والوں نے یہاں بھی وزیر اعظم عمران خان کو سرخرو کیا ۔ پی ٹی آئی کے امیدوار آفتاب حسین صدیقی نے 32326ووٹ اور صوبائی نشست پر شہزاد قریشی نے 11658ووٹ لے کر جیت کا تاج اپنے سروں پر سجا لیا ۔ صدر علوی وزیر اعظم عمران خان اور گورنر عمران اسماعیل کو سرخرو کردیا اس کے برعکس پشاور کے صوبائی حلقہ 71سے گورنر کے پی کے کے بھائی ذوالفقار خان پی ٹی آئی کی جانب سے امیدوار تھے ۔ انہیں عوامی نیشنل پارٹی کے صلاح الدین نے ایک ہزار چار سو بارہ ووٹوں سے شکست دے دی اور پی ٹی آئی یہ سیٹ ہار گئی ۔ ضمنی انتخابات کے نتائج پر پورے ملک میں تبصرے ہورہے ہیں ۔ اگر کراچی وزیر اعظم اور ان کی پارٹی کا ساتھ نہ دیتا تو پی پی پی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کا یہ دعویٰ زیادہ حقیقت افروز ہو جاتا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نہیں چل سکتی اور نہ ہی ملک چلا سکتی ہے ۔ وہ حکومت کے خلاف قرار داد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے حزب اختلاف کو متحد کرنا چاہتے ہیں لیکن کراچی کو اب بھی وزیر اعظم عمران خان سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سندھ کی دیہی قیادت صوبائی حکومت میں کراچی کو اس کا جائز حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ حیلوں بہانوں اور سندھ اسمبلی میں اپنی معمولی عددی اکثریت کے ذریعے قانون سازی کرکے کراچی ‘ حیدر آباد سمیت دیگر شہری اداروں پر قبضہ کرلیا گیا ہے ۔ نمائشی میئر کراچی وسیم اختر کو چپراسی بھرتی کرنے کا اختیار بھی نہیں ہے انتظامی اور مالیاتی اختیارات پر دیہی قیادت کا غلبہ ہے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرکے اس پر تسلط قائم کرلیا گیا ہے ۔ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کراچی والوں کا احسان چکانے کے لیے اس شہر کے لیے فنڈز مختص کرنا چاہتی ہے یا تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے تو اسے آئین کی اٹھارہویں ترمیم سے متصادم اور صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیکر ان پراجیکٹس کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مسئلہ مال کا ہے ۔ سندھ میں ترقیاتی اور تعلیمی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز ہڑپ کرنا عام پریکٹس رہی ہے ۔ اب بھی اسی روش پر چلنے کا تقاضا کیا جارہا ہے اور آڑ 18ویں ترمیم کی لی جارہی ہے ۔ پی ٹی آئی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف طبل جنگ بجا دیا گیا ہے ۔ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کی درست مردم شماری نہیں ہوئی ہے ۔ 70لاکھ سے زائد ووٹرز کا اندراج نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے کراچی ‘ حیدر آباد اور دیگر شہری علاقوں کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں کم ہو گئی ہیں ۔ بالخصوص سندھ اسمبلی میں دیہی علاقوں کی نشستیں زائد ہونے کی وجہ سے شہری علاقوں کی نمائندگی کم رکھی گئی ہے تاکہ من پسند قانون سازی کرکے شہری علاقوں پر بھی دیہی قیادت اور بیورو کریسی کا تسلط قائم رہے ۔ اس سنگین صورتحال کے سبب شہری علاقوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ‘ فاروق ستار ‘ مصطفی کمال ‘ سلیم حیدر ‘ آفاق احمد ‘ ندیم حسین ‘ ایم ایم بشیر ثانی اور دیگر شہری قیادت جنوبی سندھ صوبہ ‘ کراچی صوبہ ‘ متروکہ سندھ کے مالکانہ حقوق اور اسی نوعیت کے پروگرام لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ شہری عوام کی جانب سے تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کی حمایت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہے ہیں اور مشاورتی کونسل بنادی گئی ہے ۔ جنوبی پنجاب سے عثمان بوذدار کو وزیر اعلیٰ بنانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ سندھ میں گزشتہ 70سال سے کراچی کو وزارت اعلیٰ نہیں دی گئی ہے جبکہ کراچی نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کا سب سے بڑا اور تعلیم یافتہ شہر ہے ۔ کراچی کو عمران خان کی شکل میں مسیحا نظر آرہا ہے ۔ کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے ۔ سب سے زیادہ ریونیو ادا کرتا ہے لیکن اس کے شہری بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں کے لیے ترس رہے ہیں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہیں ۔ پورے شہر میں کچرے کے ڈھیر لگے ہیں ۔ اڑھائی کروڑ کی آبادی میں صرف دو بڑے سرکاری اسپتال ہیں ‘ صحت و صفائی کی سہولتیں ناکافی ہیں ۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن اور مشترکہ مفادات کونسل میں اس میگا سٹی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔ دنیا بھر کے بڑے شہروں کا اپنا خود مختار نظام اور ملکی اداروں میں اس کی نمائندگی ہوتی ہے ۔ کراچی کو ایسا کوئی درجہ اور مقام حاصل نہیں ہے سارے فیصلے دیہی قیادت اور بیورو کریسی کرتے ہیں اسی لیے کراچی ‘ حیدر آباد ‘ سکھر اور میرپور خاص سمیت شہری علاقے اپنی نجات اور فلاح وبہبود کے لیے باہر کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ انہیں وزیر اعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کی شکل میں نجات دھندہ نظر آرہے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 247کلفٹن ‘ ڈیفنس سوسائٹی ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار آفتاب حسین صدیقی نے 32326‘ ایم کیو ایم کے صادق افتخار 13985اور پیپلز پارٹی کے قیصر خان نظامات نے 13012ووٹ حاصل کیے ہیں ‘ تینوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ۔

(450 بار دیکھا گیا)

تبصرے