Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لند ن اسلام اور یہودی

الیاس شاکر(سچ یہ ہے!) جمعه 09 جون 2017
لند ن اسلام اور یہودی

لندن دنیا کے معروف تجارتی معاشی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر کی سیاسی، تعلیمی، تفریحی، صحافتی، فیشن اور فنون لطیفہ کے حوالے سے سرگرمیاں لندن کے بین الاقوامی شہر ہونے کی گواہ ہیں۔ دریائے ٹیمز کے کنارے آباد یہ قدیم گائوں آج ایک جدید شہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ لندن بہت سے مذاہب اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے۔ اس شہر میں تین سو سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ میں نے لندن کی گلیاں گھومی ہیں، مختلف علاقوں کا گشت کیا، سنگل یونٹ گھر دیکھے،قدیم عمارتوں کا معائنہ کیا، خریداری بھی کی، کسی نے عیسائی سمجھ کر نہ زیادہ عزت دی اور نہ ہی کسی نے مسلمان سمجھ کر بے عزتی کی۔ لندن اپنی خوبصورتی کشش اور جاذب النظری کے حوالے سے دنیا کا انوکھا شہر ہے۔ ہٹلر کے جہازوں کی بمباری کے سبب یہ شہر کھنڈر بن چکا تھا لیکن انگریزوں نے اس کھنڈر کو پھر تعمیر کیا اور تاریخی شہر بنا دیا۔ لندن کی خوبی یہ ہے کہ یہاں دو سے تین لاکھ سیاح روزانہ آتے ہیں۔ یہاں سے تحفے تحائف خریدتے ہیں۔ لندن میں دنیا کے نادر عجائب گھر اور لائبریریاں ہیں اور یہ دنیا بھر کا اثاثہ ہیں۔ اسی لئے برطانیہ نے اسے ہر خاص و عام کیلئے کھلا رکھا ہے اور کوئی بھی اس سے استفادہ کر سکتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور جامعہ الازہر میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آیا۔ دونوں میں اسلام سے متعلق مقالہ جات کے ہزاروں نسخے موجود ہیں۔ کسی کو بھی اس بات کی اجازت کیسے مل سکتی ہے کہ وہ اسے تباہ کر دے۔ مسلمانوں کو بھی سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان میں سے چند جس راستے پر جا رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں۔ اسی طرح یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو مسلمانوں سے اسی طرح صلح کرنی پڑے گی جیسے صلیبی جنگوں کے خاتمے کے بعد کی گئی ۔لندن ہو یا کراچی لاہور ہو یا اسلام آباد سب انسانی ترقی اور عظمت کے نشانات ہیں۔اس وقت لندن میں جس طرح دہشت پھیلائی جارہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ظلم ہمیشہ ظلم کو ہی جنم دیتا ہے۔نفرت پھیلانے والوں نے کبھی راحت اور خوشی کے پھول نہیں چنے ۔
قدیم ترین تہذیب کا شہر لندن اس وقت ایک مخصوص’’سوچ ‘‘کے حملوں کا شکار ہے ۔مسلمانوں کیساتھ ہتک آمیز سلوک اور ذلت آمیز رویہ لندن کو غیر محفوظ بنارہا ہے۔گزشتہ ایک ماہ سے برطانیہ ایک ’’نامعلوم دشمن ‘‘سے لڑرہا ہے ۔مانچسٹر حملے کے بعد برطانیہ نے امریکا سے اس بات پر احتجاج کیا تھا کہ اس نے حملہ آوروں کی ابتدائی معلومات میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلادی تھیں۔ایک برطانوی پولیس افسر لندن کی ایک جامع مسجد میں گیا اور تقریر کی ۔مسلمان کمیونٹی کو تحفظ کا یقین دلایا ،اسلام کو لندن کے حملہ آوروں سے الگ رکھا لیکن خوف کی کیفیت بھی پیدا کی جو اس سے قبل کبھی نہیں تھی ۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو مسلمانوں کے خلاف ایسی ہی میڈیا بریفنگز دی جارہی ہیںجیسی امریکی صدور کو ’’کالوں ‘‘کیخلاف دی گئی تھیںاور پھر گوروں اور کالوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع ہوئی ۔امریکہ میں نسل پرستی اہم مسئلہ رہی ۔ صرف 2012اور 2013 میں کالوں کی جانب سے گوروں پر حملوں کے پانچ لاکھ ساٹھ ہزار چھ سوواقعات پیش آئے جبکہ گوروں کی جانب سے کالوں پر حملوں کے نناوے ہزار چارسوتین واقعات پیش آئے۔جس ملک میں جرائم اور رنگ ونسل کی بنیاد پر ایک دوسرے کو مارنے اور ایک دوسرے پر حملوں کا ایسا حال ہوا کہ ساری دنیا میں امن اور انسانیت کا ٹھیکہ دار بننے والا امریکا اپنے ہی ملک میں رنگ اور نسل کی تفریق کو ختم کرنے میں
مشکلات سے دوچار رہا۔ یہ وہ امریکہ ہے جہاں نیگرو یعنی سیاہ فام نسل کے افریقی نژاد لوگ باقاعدہ قانونی طور پر گوروں کے غلام تھے۔یہ کوئی کافی پرانی بات نہیں بلکہ 1960 کی دہائی تک اس مہذب امریکہ کا یہ حال تھا کہ یہاں کے گورے سڑک کے ایک طرف چلتے تھے اور افریقی نژاد سیاہ فام لوگ سڑک کی دوسری جانب چلتے تھے۔ سڑک کے کنارے اگر ایک آئس کریم والا آئس کریم بیچ رہا ہوتا تھا تو خریدنے کیلئے اس کے پاس گوروں اور کالوں کی الگ الگ لائن لگتی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں بسوں میں کالوں کے لئے سیٹیں الگ مخصوص تھیں۔ 1960 کی دہائی میں مارٹن لوتھر کنگ نے کسی طرح سیاہ فام افریقیوں کی غلامی قانونی طور پر ختم کروائی لیکن رسی جل جائے تب بھی بل تو نہیں جاتا ہے۔پرانی سفید نسل پرستی امریکی خون میں ایسی گھل چکی تھی کہ قانون کے آگے وہ مجبور ہوکر خاموش تو ہوگئی لیکن اندر ہی اندر اس کے دل میں افریقی نژاد امریکیوں کے لئے نفرت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا رہا۔ آخر ایک وقت وہ بھی آیا کہ بارک اوباما جیسا ایک افریقی نسل پرست کالا صدر بن گیا اوراس قربانی کے بعد امریکا میں نسل پرستی کو ایک حد تک قابو میں کیا گیا۔
برطانیہ میں ایسی ہی صورتحال درپیش ہے لیکن یہاں معاملہ مسلمان اور عیسائی کا ہے ۔مسلمانوں کیخلاف سطحی نوعیت کا زہر اگلا جاتا ہے،حقارت پر مبنی سلوک کیا جاتا ہے ،توہین آمیز کلمات کہے جاتے ہیں،کاروباری طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ان تمام باتوں کی کوکھ سے نفرت جنم لیتی ہے اور پھر کسی بھی حملے کے بعد بعض مسلمان خوش ہوتے ہیں اور کچھ تواس میں ملوث ہوتے ہیںاور بعض اس کی مذمت کرتے ہیں کہ اسلام تشدد اور دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا ۔اسلام جہاد کی بھی اجازت اسی صورت میں دیتا ہے جب ریاست اس کا اعلان کرے ۔کوئی فرد تن تنہا تلوار یا چاقو اٹھا کر جہاد پر نہیں نکل سکتا اور نہ ہی کسی بے گناہ کا گلا کاٹ سکتا ہے۔اسلام تو معافی اور درگزر کا مذہب ہے ۔
جب ہم بارہ سال قبل اوسلو(ناروے)میں تھے تو ہوٹل میں یہودیوں کا وفد ملنے آیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اخبار میں پڑھا کہ پاکستانی اخبارنویسو ں کا وفد آیا ہے اس لئے ملنے آئے ہیں ۔یہودی وفد کے لیڈر نے ہمیں دھمکی آمیز انداز میں سمجھایا کہ’’یہودیوں ‘‘سے کبھی مت لڑناورنہ تباہ وبرباد ہوجاوگے کیونکہ ایک تو آپ بہت غریب ہو اوپر سے غیر ترقی یافتہ،آپ کو تو ترقی کے معنی بھی معلوم نہیں ،آپ کی سوچ انتہاپسندانہ ہے اسے تبدیل کریں ورنہ آپ دنیا میں تنہا ہوجائیں گے ،انہوں نے گفتگو جاری رکھی اور بتایا کہ ’’میرے کئی پاکستانی دوست ناروے میں ہیں‘‘میںان سے پوچھتا ہوں کہ اپنے ملک میں کام کیوں نہیں کرتے یہاں آکر تو خوب پسینے بہاتے ہوپھر کہتے ہو کہ نہ پاکستان نے معیشت بنائی نہ قوم بنائی اور نہ ہی ترقی پائی ،سب سے پہلے اپنی کرنسی کو مضبوط کرواس یہودی نے یہ بھی کہا کہ’’مجھے پاکستانی چٹ پٹے کھانے پسند ہیں اس لئے میں اوسلو میں پاکستانی ہوٹلوں میں اکثرجاتا ہوں کیونکہ جو مسلمانوں کیلئے حلال ہے وہی یہودیوں کیلئے بھی حلال ہے‘‘ ۔
اس یہودی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’آپ سنگاپور دیکھیں وہ ابتدا میں طوائفوں کی بستی تھی ،جاپان نے جب طوائفوں کو ملک بدر کیا تو وہ سنگا پور آگئیں لیکن سنگاپور ین قوم نے اپنی طاقت سے سنگاپور کو ایشین ٹائیگر بنایا انہوں نے کام کیا۔چین میں بھی ایسا ہی ہے وہ بھی کام کرتے ہیں ۔پاکستان میں کام چوروں کو سزا دی جانی چاہیے‘‘ ۔
لندن میں نفرت کی آگ جس طرح پھیل رہی ہے اس کیلئے مسلمان ممالک کو وہی کردار ادا کرنا چاہئے جو پوپ پال فرانسس نے ادا کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ’’حالات تیزی کے ساتھ تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھنا شروع ہوگئے ہیںاس سے بچنے کیلئے سب مذاہب کے لوگوں کو متحد ہونا ہوگا چند دہشت گرد پوری دنیا کو یرغمال نہیں بنا سکتے‘‘۔
ہمارے پاس کئی اسلامی اکابرین موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے پیش امام نے بھی کبھی فساد اور تشدد کی تائید نہیں کی ۔اب انہیں بھی لندن کی خوفناک صورتحال میںاپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم تو اس مذہب کا کلمہ پڑھتے ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ، خون ِ ناحق کا جواب ہمیں دینا ہوگا ،اس سلسلے میں پاکستانی تھنک ٹینکس کو بھی آگے آنا ہوگا ،یورپ اور امریکا میں جو مسلمان مقیم ہیں انہوں نے بہت محنت کی ہے ۔ذراسی بھی غلطی سے کہیں یہ محنت ضائع نہ ہوجائے ، جو لوگ وہاں کام کرنے گئے ہیں وہ لڑائی اور فساد ہرگز نہیں چاہتے ،ان کے بچوں کے مستقبل کی فکر بھی ہمیں ہی کرنا ہوگی،لندن محفوظ رہے گا تو پاکستانی مسلمان بھی محفوظ رہیں گے اور انہیں ترقی کرنے میں آسانی ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(418 بار دیکھا گیا)

تبصرے